اپنے ہاں نئی غیر ملکی سرمایا کاری میں چین امریکا سے بھی آگے نکل گیا | حالات حاضرہ | DW | 26.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اپنے ہاں نئی غیر ملکی سرمایا کاری میں چین امریکا سے بھی آگے نکل گیا

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک اور دوسری سب سے بڑی معیشت چین نے اپنے ہاں نئی براہ راست غیر ملکی سرمایا کاری میں پہلی بار امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ امریکا گزشتہ کئی عشروں سے اس شعبے میں پہلے نمبر پر تھا۔

اقوام متحدہ کی تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس UNCTAD کی طرف سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ کے مطابق عوامی جمہوریہ چین پچھلے سال اپنے ہاں نئی اور براہ راست غیر ملکی سرمایا کاری کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا۔ یہ عالمی اقتصادی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ چین نے امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

چین 2028ء تک دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا، رپورٹ

امریکا میں غیر ملکی سرمایا کاری تقریباﹰ نصف رہ گئی

اس رپورٹ کے مطابق 2020ء میں امریکا میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سرمایا کاروں کی طرف سے کی جانے والی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ یا FDI کی شرح کم ہو کر تقریباﹰ نصف رہ گئی۔ اس کے برعکس بین الاقوامی سرمایا کار اداروں اور شخصیات نے چین کا رخ کرنا شروع کر دیا۔

نیا ریکارڈ: چین کو ایک ماہ میں 75.4 ارب ڈالر کا تجارتی فائدہ

Shanghai Tower Turm China

چینی شہر سنگھائی کے کاروباری مرکز پوڈونگ کا ایک فضائی منظر

کورونا وائرس کی عالمی وبا کی وجہ سے دنیا بھر میں پچھلے سال مختلف ممالک میں مجموعی غیر ملکی سرمایا کاری اتنی بری طرح متاثر ہوئی کہ اس کا مجموعی حجم گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنی کم ترین سطح پر آ گیا۔

جرمن کار انڈسٹری کا انحصار چین پر

UNCTAD کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس امریکا میں نئی ایف ڈی آئی کے حجم میں 49 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور اس کی مجموعی مالیت 134 بلین ڈالر رہ گئی۔

اس کے برعکس چین مین اس طرح کی بیرونی سرمایا کاری کے حجم میں کمی کے بجائے چار فیصد اضافہ ہوا اور اس کی مالیت مزید بڑھ کر 163 بلین ڈالر ہو گئی۔

ترقی یافتہ ملکوں میں بیشترعوام چین سے نالاں: سروے

عالمی سطح پر مجموعی غیر ملکی سرمایا کاری میں بیالیس فیصد کمی

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت اور ترقی کی اس رپورٹ کے مطابق 2019ء میں عالمی سطح پر نئی ایف ڈی آئی کا مجموعی حجم 1.5 ٹریلین ڈالر کے قریب رہا تھا۔ لیکن گزشتہ برس کورونا وائرس کی وبا کے باعث اس حجم میں 42 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی اور براہ راست غیر ملکی سرمایا کاری کی کُل مالیت تقریباﹰ 859 بلین ڈالر رہ گئی۔

چین اور امریکا کے مابین سیاسی اورسفارتی جنگ میں مزید شدت

یہ حجم 1990 کی دہائی کے بعد سے آج تک ریکارڈ کیا جانے والا کم ترین حجم ہے، جس کی مالیت 2009ء میں پیدا ہونے والے عالمی مالیاتی بحران کے دوران کی گئی مجموعی غیر ملکی سرمایا کاری سے بھی 30 فیصد کم بنتی ہے۔

کورونا کی وبا کے بعد چینی اقتصادیات میں بہتری کے آثار

بین الاقوامی سرمایا کاروں کی نظریں مشرق کی طرف

ماہرین کا کہنا ہے کہ براہ راست غیر ملکی سرمایا کاری کے شعبے میں چین کا امریکا کو پیچھے چھوڑ دینا اس امر کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ بین الاقوامی سرمایا کار اب اپنی توجہ مغرب کے بجائے مشرق کی طرف مرکوز کرنے لگے ہیں۔

کورونا وائرس سے عالمی معیشت لڑکھڑا سکتی ہے

جہاں تک چینی معیشت کا تعلق ہے تو اس میں گزشتہ برس بھی 2.3 فیصد کی شرح سے ترقی ہوئی تھی۔ یہ 1976ء کے بعد سے آج تک چینی معیشت میں سالانہ ترقی کی کم ترین شرح تھی۔

چین اب اسلحہ سازی میں بھی دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک، سِپری

چین کے برعکس امریکا، جاپان اور یورپی ممالک سمیت دنیا کی دیگر بڑی معیشتوں کو پچھلے سال کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اپنی مجموعی اقتصادی پیداوار میں واضح کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

م م / ا ا (روئٹرز، ڈی پی اے)