اپنے ملک کا نقصان نہ کریں: وزیر اعظم عمران خان | حالات حاضرہ | DW | 19.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اپنے ملک کا نقصان نہ کریں: وزیر اعظم عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے متحد ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کے حالات بہتر ہو رہے ہیں  اور اس کی معیشت بھی اٹھ رہی ہے ایسے وقت میں اپنے ہی ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

پیر کی شام اسلام آباد سے ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فرانس کے سفیر کو نکالنے اور احتجاجی مظاہروں سے پاکستان کا نقصان ہوگا،''فرانس سے تعلق توڑنے کا مطلب یورپی یونین سے تعلق توڑنا ہے۔ ہماری ٹیکسٹائل کی پچاس فیصد برآمدات یورپی ممالک کو جاتی ہیں، اگر یورپی یونین سے تعلق توڑا تو فرانس یا ان کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہمارا ہوگا۔ بر آمدات رکنے سے ملکی صنعت کا پہیہ رک جائے گا اور بے روزگاری بڑھے گی۔‘‘

وزیراعظم نے مزید کہا،''ٹی ایل پی کی طرح ہم بھی چاہتے ہیں کہ مغرب کی طرف سے مسلمانوں کی دل آزاری کا سلسلہ بند ہونا چاہیے لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہمارا اور ٹی ایل پی کا طریقہ مختلف ہے۔ فرانس کے سفیر کو نکال کر یہ مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ مسلمان ملکوں کے سربراہوں کو اکٹھا کرکے اس ضمن میں آواز اٹھانا ہوگی۔‘‘

تازہ ملکی صورتحال کے حوالے سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ دو ڈھائی مہینے سے اس معاملے پر بات چیت کر رہی تھی اور وہ فرانس کے سفیر کی ملک بدری چاہتے تھ،'' ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا کرنے سے نقصان ہمارا ہی ہوگا۔ ہم معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کررہے تھے لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ یہ لوگ اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کا مطالبہ سفیر کی ملک بدری ہی ہے، اس کے بعد ان سے مذاکرات کا سلسلہ برقرار نہ رہ سکا۔‘‘

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکمت عملی ذرا مختلف ہے۔ ان کی رائے میں تمام مسلم ممالک کو متحد ہوکر اس معاملے پر تمام عالمی فورمز، یورپی یونین اور اقوام متحدہ وغیرہ میں اس پر بات کرنی چاہیے اور انہیں سمجھانا چاہیے کہ کیوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے،'' مغرب میں لوگ مذہب کے اتنا قریب نہیں جتنا ہم ہیں لہٰذا انہیں اس چیز کی سمجھ ہی نہیں کہ مسلمانوں کو کیوں تکلیف ہوتی انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔‘‘

احتجاج سے ہونے والا نقصان

وزیراعظم نے احتجاج کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اب تک پولیس کی  40 گاڑیوں کو جلا دیا گیا ہے، لوگوں کی نجی املاک کا نقصان ہوا، 4 پولیس اہلکار شہید ہوئے، 800 سے زائد زخمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے دن کے احتجاج میں 100 سڑکیں بلاک کردی گئیں، اس سے عوام کو نقصان ہوا، کورونا کے سلنڈرز نہ پہنچنے کی وجہ سے بھی اموات ہوئیں۔

بیرونی عناصر بھی سرگرم

وزیراعظم نے کہا کہ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کے لیے بعض بیرونی عناصر بھی سرگرم ہو گئے، ''ابھی تک ہم نے 4 لاکھ ٹوئٹس کا جائزہ لیا ہے جن میں سے 70 فیصد جعلی اکاؤنٹس سے کی گئیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ ایک ہمسایہ ملک کے 380 گروپس اس حوالے سے واٹس ایپ گروپ میں جعلی خبریں پھیلارہے تھے۔

صورتحال میں بہتری کا آغاز

ادھر پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق صورت حال میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے۔ ملتان روڈ پر موجود بیشتر احتجاجی مظاہرین پیر کی سہ پہر کو قریبی مساجد میں چلے گئے ہیں جبکہ پولیس بھی پیچھے ہٹ گئی ہے۔ کسی بھی جگہ سے مظاہرین کی پولیس سے جھڑپوں کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

مفاہمت کے لیے رابطوں میں تیزی

پاکستان کی حکومت کشیدگی کم کرنے کے لیے کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پیر اور منگل کی درمیانی رات کو ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور سے پہلے سرکاری اور غیر سرکاری رابطوں میں تیزی آ گئی ہے۔

ادھر قرآن بورڈ پنجاب کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی قیادت میں جماعت اہلسنت کے علما کے ایک وفد نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ٹی ایل پی کے سربراہ مولانا سعد رضوی سے ملاقات کی ہے۔ دوسری طرف گورنر پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور ڈی جی رینجرز پنجاب نے بھی ایک ملاقات میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر مشاورت کی ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار نے بھی ایک اعلی سطحی اجلاس میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ ادھر منصورہ میں ہونے والے ملی یک جہتی کونسل کے ایک اجلاس میں شریک مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے معاملات کو افہام و تفہیم سے طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مذاکرات میں کیا ہو رہا ہے؟

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے مطابق اب تک مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں۔ مذاکرات کے پہلے دور میں اعتماد سازی اور مفاہمت کے فروغ کے لیے متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرین کی طرف سے یرغمال بنائے گئے پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ہے جبکہ پی ٹی ایل کے تین رہنماؤں کی رہائی کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔

حکومت کی طرف سے گورنر پنجاب، صوبائی وزیر قانون مذاکرات میں شامل ہیں جبکہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مولانا نور الحق قادری بھی اگلے راؤنڈ میں ان مذاکرات کا حصہ ہوں گے۔

تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے، کارکنوں اور رہنماؤں پر دائر کئے جانے والے مقدمے ختم کرنے، ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے اور پارلیمنٹ میں ناموس رسالت کے حق میں قرار داد منظور کروانے کے حوالے سے مطالبات سامنے آئے ہیں جبکہ حکومتی وفد کی طرف سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ نہ کرنے، احتجاجی مظاہرے ختم کرنے اور آئندہ جلاؤ گھیراؤ سے اجتناب برتنے کا کہا جا رہا ہے۔

ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

لاہور واقعے کے خلاف ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پنجاب کے بڑے شہروں میں بھی تاجروں کی بڑی تعداد نے ہڑتال کرتے ہوئے اپنی دوکانوں کے شٹر ڈاون رکھے۔ لاہور شہر سے موصولہ خبروں کے مطابق ہڑتال کی اپیل پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا تاہم شہر کی ہول سیل کی تقریباﹰ تمام مارکیٹیں بند رہیں۔ سرکلر روڈ مارکیٹ، اردو بازار، اکبری منڈی، شاہ عالم مارکیٹ، فرنیچر مارکیٹ اور جیولری مارکیٹ کے علاوہ اقبال ٹاؤن، فیروز پور روڈ اور گلبرگ کی مارکیٹوں میں زیادہ تر دوکانیں بند رہیں۔ لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم تھی پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ کی طرف سے بھی آج شہر سے باہر سامان کی سپلائی معطل رہی۔

انٹرنیٹ سروس معطل

لاہور شہر کی صورتحال میں آنے والی جزوی بہتری کے باوجود چوک یتیم خانہ کے دس کلومیٹر اطراف میں انٹرنیٹ کی سروس معطل ہے اور گلبرگ، فیصل ٹاؤن، شادمان، نیو گارڈن ٹاؤن، اچھرہ مزنگ سبزہ زار، سمن آباد اور گلبرگ سمیت کئی علاقوں میں انٹر نیٹ کی بلا تعطل سروس میسر نہیں ہے۔

میڈیا پر مکمل بلیک آوٹ

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما پرویز اشرف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے اسمبلی میں تفصیلی پالیسی بیان نہ دینا افسوسناک ہے۔ ان کے خٰیال میں اتنے اہم ایشو پر وزیر اعظم بھی ایوان میں نہیں آئے۔ ان کے مطابق اس بحران کے دوران میڈیا پر مکمل بلیک آؤٹ رہا اور ملک میں افواہیں گردش کرتی رہیں۔ جبکہ حکومت نے ٹی ایل پی کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے پر پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ ان کی رائے میں حکومت اس معاملے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 05:58

پاکستان میں مظاہروں کے بعد کریک ڈاؤن، سوشل میڈیا تک رسائی معطل