اپنی کارکردگی سے متعلق سوال پر شاہد آفریدی برہم | کھیل | DW | 25.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

اپنی کارکردگی سے متعلق سوال پر شاہد آفریدی برہم

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان خلیجی دورے کا آخری مرحلہ جمعرات کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی سے شروع ہو رہا ہے۔ مختصر فارمیٹ کے تین شبینہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ امارات کے سب سے بڑے شہر دبئی میں کھیلا جائے گا۔

ٹیسٹ سیریز میں پاکستان نےانگلینڈ کے دانت طمطراق سے کھٹے کیے تھے لیکن اس کے بعد سے خلیج فارس سے اٹھنے والی ہواؤں کا رخ بدل چکا ہے۔ بٹلر، ہیلز اور رائے جیسے نوجوان کرکٹرز انگلینڈ کو ایک روزہ سیریز میں غیرمعمولی تین ایک سے کامیابی دلا چکے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے لیے یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی سیریز اگلے برس مارچ میں بھارت میں ہونیوالے آئی سی سی عالمی کپ کے پیش نظر بہت اہم ہے۔

پاکستانی کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ عالمی کپ سے پہلے انگلینڈ جیسی ورلڈ کلاس ٹیم سے کھیلنے کی بہت اہمیت ہے اور ہمارے کھلاڑیوں کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ عالمی کپ سے پہلے آفریدی کے بقول پاکستان کو مجموعی طور پر دس ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنا ہیں جن سے میگا ایونٹ کی تیاریوں میں مدد ملے گی۔

ٹوئنٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے جو چھ اسپیشلسٹ کھلاڑی پاکستان سے دبئی پہنچے ہیں ان میں شاہد آفریدی کے علاوہ عمر اکمل، صہیب مقصود، سہیل تنویر اور اوپنر رفعت اللہ مہمند بھی شامل ہیں۔ رفعت اللہ مہمند انتالیس سال کی عمر میں اپنا ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کیرئیر شروع کرنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بن جائیں گے۔

دبئی اسپورٹس اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ رفعت اللہ سے ہمیں بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے ٹیسٹ اور انگلینڈ نے ون ڈے سیریز جیتی اس لیے اب وہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں کامیابی حاصل کرکے دورے کا اختتام فتح کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔

شاہد آفریدی نے رواں برس صرف دو وکٹیں اور پچاسی رنز بنائے ہیں۔ جب ان سے ان کی اپنی کارکردگی کے متعلق پوچھا گیا تو پاکستانی کپتان نے سوال کرنے والے صحافی کو جھاڑ پلا دی۔

پاکستان کی ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹیم نے اس سیریز کی تیاری کے لیے ایک وارم اپ میچ دو روز پہلے ہانگ کانگ کے خلاف دبئی میں کھیلا تھا اور میچ چونسٹھ رنز سے جیت لیا تھا۔ آج پاکستان ٹیم نے شام کے وقت آئی سی سی کرکٹ اکیڈمی کی فلڈ لائٹس میں پریکٹس کی۔ اوپنر احمد شہزاد طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے پریکٹس میں حصہ نہ لے سکے۔

دوسری طرف انگلینڈ کے کپتان ایون مورگن کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ برصغیر میں ہو رہا ہے اور وہاں کی وکٹیں اور کنڈیشنز بھی دبئی سے ملتی جلتی ہیں اس لیے ان کی ٹیم ون ڈے کا مومینٹم برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔

دبئی اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم شہر سے چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ اسٹیڈیم دنیا میں سب سے زیادہ بتیس ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچوں کی میزبانی کر چکا ہے۔

دبئی میں گز شتہ دو روز سے بادل چھائے ہوئے ہیں اور جمعرات کو بھی ابر آلود موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

پاکستان نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی تاریخ میں اپنا پہلا میچ انگلینڈ کے خلاف برسٹل میں دو ہزار چھ میں کھیلا تھا۔ اس میچ کے مین آف دی میچ شاہد آفریدی کے علاوہ محمد حفیظ اور شعیب ملک جمعرات کو بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ برسٹل میں اس اولین کامیابی کے بعد سے اگلے نو میچوں میں پاکستان ٹیم انگلینڈ کو صرف دو ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ ہرا سکی ہے اور دونوں بار یہ دبئی میں میں ہی ممکن ہوا۔

اشتہار