ايپل نے چينی حکومت کے مطالبے پر تمام قرآنی ايپس ہٹا ديں | معاشرہ | DW | 16.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

ايپل نے چينی حکومت کے مطالبے پر تمام قرآنی ايپس ہٹا ديں

چين ميں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن اب انٹرنيٹ کے ذريعے موبائل فون ايپس پر دستياب نہيں ہو گی۔ بيجنگ حکومت کے مطالبے پر کئی کمپنيوں نے اپنے پليٹ فارمز سے قرآن اور بائبل جيسی مذہبی کتابيں ہٹا دی ہيں۔

پاکستان ڈيٹا مينجمنٹ سروس نامی کمپنی نے اطلاع دی ہے کہ اس کی ایپ 'قرآن مجيد‘ اب چين ميں دستياب نہيں ہے۔ کمپنی کے مطابق وہ متعلقہ چينی اتھارٹی کی جانب سے مزيد معلومات کی فراہمی اور وضاحت کی منتظر ہے۔ کراچی ميں قائم اس کمپنی کی ایپ 'قرآن مجيد‘ کو عالمی سطح پر تقريباﹰ چاليس ملين صارفین استعمال کرتے ہيں جب کہ چين ميں اس کے صارفين کی تعداد لگ بھگ ايک ملين ہے۔ کمپنی کے سينئر عہدیدار حسن شفيق احمد کے بقول وہ چينی حکام کے ساتھ رابطے ميں ہيں تاکہ کاغذی کارروائی مکمل کر کے اس ايپ کی دستيابی بحال کرائی جا سکے۔

توہین آمیز مذہبی مواد، پاکستان کی گوگل اور وکی پیڈیا کو دھمکی

بھارتی سپریم کورٹ میں مسلمان شہری کی قرآن میں سے 26 آیات ہٹانے کی درخواست

بھارت: وسیم رضوی کی قرآنی آیات حذف کرنے کی درخواست خارج

چين ميں امریکا کی ايپل کمپنی کے آن لائن ایپ اسٹور سے ايسی تمام ايپس ہٹا دی گئی ہيں، جن کی مدد سے صارفین کے لیے قرآن تک آن لائن رسائی ممکن تھی۔ آن لائن ٹریڈنگ کمپنی ايميزون کی آڈيو بک سروس 'آڈيبل‘سميت وہ ايپس جن کے ذریعے قرآن آن لائن پڑھا جا سکتا ہے، اب چين ميں دستياب نہيں۔ قرآن اور مسيحيوں کی مقدس کتاب بائبل کی آن لائن اشاعت سے منسلک کئی ديگر کمپنيوں کا بھی کہنا ہے کہ چينی حکومت کی درخواست پر عام صارفين کی ان کمپنیوں کی ايپس تک رسائی روک دی گئی ہے۔

اس سلسلے ميں ابھی تک ايپل کا کوئی رد عمل سامنے نہيں آيا۔ امريکا ميں چينی سفارت خانے نے آن لائن پليٹ فارمز سے مخصوص ايپس ہٹائے جانے کے معاملے پر کچھ بھی کہنے سے انکار کر ديا۔ حکام نے بس يہ جواب ديا کہ چين انٹرنيٹ کے پھيلاؤ اور بہتر رسائی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ ساتھ ہی يہ جملہ بھی درج تھا، ''مگر انٹرنيٹ کی ترقی چينی قوانين اور ضوابط کے تحت ہونا چاہيے۔‘‘

مبصرين اس پیش رفت کو چين ميں انٹرنيٹ پر سرکاری کنٹرول بڑھا دیے جانے کا ايک تازہ ثبوت قرار دے رہے ہيں۔ چينی ريگوليٹرز نے اس سال ڈيٹا پرائيويسی کے حوالے سے قوانين سخت تر کر ديے ہيں۔ حال ہی ميں ايسا قانون بھی متعارف کرايا گيا، جو بچوں کے آن لائن ويڈيو گيمز کھيلنے کے مجموعی روزانہ اوقات بہت محدود کر دینے سے متعلق ہے۔

کونسل آن امريکن اسلامک ریليشنز نے ايپل کمپنی کے اقدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قرآن کو اپنے ایپ سٹور سے ہٹا کر يہ کمپنی چين کی جانب سے مسلمانوں اور ديگر اقليتوں کے مبينہ استحصال کا حصہ بن رہی ہے۔ اس کونسل کے اعلیٰ رکن ايڈورڈ احمد مچل نے مطالبہ کيا ہے کہ ايپل اپنا یہ فيصلہ واپس لے۔ انہوں نے مزيد کہا کہ اگر امريکی کارپوريشنز نے ہمت کا مظاہرہ نہ کيا اور چين کے سامنے کھڑے نہ ہوئے، تو خطرہ ہے کہ وہ آئندہ صدی ايک فاشسٹ سپر پاور کے سامنے جھک کر گزاريں گے۔

ویڈیو دیکھیے 04:06

صرف ڈیڑھ انچ لمبے اور ایک انچ چوڑے قرآنی نسخے کی کتابت

ع س / م م (اے پی اے)