’اویسی، محمد علی جناح کے نئے اوتار ہیں‘: بی جے پی | حالات حاضرہ | DW | 24.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’اویسی، محمد علی جناح کے نئے اوتار ہیں‘: بی جے پی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک اہم رہنما کے بقول بھارتی رکن پارلیمان اسد الدین اویسی، پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح کے نئے ’اوتار‘ ہیں۔ اویسی نے اس کی سخت مذمت کی ہے۔

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے یوتھ ونگ کے سربراہ اور رکن پارلیمان تیجسوی سوریا کا کہنا ہے کہ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی دراصل پاکستان کے قائد اعظم محمد علی جناح کے نئے 'اوتار‘ ہیں۔ ہندو عقیدے کے مطابق کوئی شخص انتقال کے بعد جب کسی دوسرے شخص کی شکل میں دوبارہ جنم لیتا ہے تو اسے متوفی کا 'اوتار‘ کہتے ہیں۔

اویسی کا بی جے پی کو چیلنج

اسد الدین اویسی نے بی جے پی رہنما کے اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت بھڑکانے کی ایک اور کوشش قرار دیا۔ اسدالدین اویسی نےمزید کہا کہ بی جے پی کا مقصد صرف اور صرف منافرت پیدا کرنا ہے۔

بی جے پی رہنما نے اسد الدین اویسی کی جماعت پر ترقیاتی کاموں کے نام پر صرف روہنگیا مہاجرین کی مدد کرنے کا الزام لگایا۔ اویسی نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ووٹر لسٹ میں تیس ہزار روہنگیا کے نام ہیں تو وزیر داخلہ امیت شاہ کیا کررہے ہیں؟ کیا امیت شاہ سو رہے ہیں؟ کیا یہ دیکھنا ان کی ذمہ داری نہیں ہے کہ تیس سے چالیس ہزار روہنگیا شہریوں کے نام کا کیسے اندراج ہوگیا؟"  انہوں نے بی جے پی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ”اگر بی جے پی واقعی اپنے قول میں سچی ہے تو وہ منگل تک اس طرح کے ایک ہزار نام ہی دکھا دے۔"

انہوں نے اپنے مخصوص لہجے میں کہا،”بی جے پی اتنی زیادہ پریشان ہوگئی ہے کہ اسے کچھ نظر ہی نہیں آرہا ہے۔ حیدرآباد آئے تو اسے احمداللہ کی بریانی کھلاؤ، کچھ ہوش ٹھکانے آتا۔"

بھارتی حیدرآباد میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ حسب معمول اپنی دیرینہ حکمت عملی کے تحت ہندو اور مسلمانوں کے نام پر صف بندی کی کوشش کررہی ہے اور اس سلسلے میں ’پاکستان اور جناح‘ اس کے کافی پرانے حربے ہیں۔

بنگلورو سے رکن پارلیمان اور پارٹی کی یوتھ ونگ کے صدر 30 سالہ تیجسوی سوریا نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”آپ کو معلوم ہے کہ اویسی کون ہیں؟ اویسی جناح کے نئے اوتار ہیں۔ وہ انتہاپسند اسلام، علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کی زبان بولتے ہیں۔ وہ اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں، جیسی جناح کیا کرتے تھے۔ ہر بھارتی شہری کو اویسی برادران کی تخریبی اور فرقہ پرست سیاست کے خلاف متحد ہوجانا چاہیے۔ ہم انہیں اسلامائزیشن کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ہمارا عزم مصمم ہے۔"

یہ بھاگیہ نگر نہیں حیدرآباد ہے

 بی جے پی کے اس بے باک نوجوان رہنما نے مزید کہا، ”کے سی آر (جنوبی ریاست تلنگانہ کے وزیر اعلی کی عرفیت) حیدرآباد کو استنبول بنانا چاہتے ہیں۔ استنبول ترکی کا شہر ہے اور ترکی صد فیصد مسلم ملک ہے۔ ترکی کے صدر ہمارے ملک کے خلاف  بولتے رہتے ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین بھارت کے حیدرآباد کو پاکستان کے حیدرآباد کی طرح بنانا چاہتی ہے۔ ہم حیدرآباد کو بھاگیہ نگر بنائیں گے لیکن اسے استنبول نہیں بننے دیں گے۔"

تیجسوی سوریا کا مزید کہنا تھا کہ 'بی جے پی کو دیا گیا ہرایک ووٹ بھارت کے لیے، ہندوتوا کے لیے اور اس ملک کو مضبوط بنانے کے لیے ہوگا اور اویسی کے لیے ہر ایک ووٹ بھارت کے خلاف اور بھارتی قدروں کے خلاف ہوگا۔‘

نام بدلنے کی مہم

یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت دیگر ہندو قوم پرست اور شدت پسند جماعتیں مسلمانوں اور اسلام کے نام پر آباد شہروں کے نام بدلنے کی اپنی مہم کے تحت حیدرآباد کا بھی نام تبدیل کرکے اسے بھاگیہ نگر کرنا چاہتی ہیں۔ دو برس قبل بی جے پی کے ایک قانون ساز راجا سنگھ نے حیدرآباد کا نام بدل کر بھاگیہ نگر کرنے کی تجویز پیش کر کے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا تھا۔ تیجسوی سوریا نے بھی اپنے ٹوئٹ میں حیدرآباد کی جگہ بھاگیہ نگر کا استعمال کیا۔ لیکن اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی کافی نکتہ چینی بھی کی جارہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بہار میں ہونے والے حالیہ اسمبلی انتخابات میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین پر بی جے پی کی قیاد ت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کی مدد کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے اور اسد الدین اویسی کو”ووٹ کٹوا" (ووٹ کاٹنے والے) کہا گیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 02:43

بھارت ہندو راشٹر بننے کی راہ پر ہے، اسدالدین اویسی

DW.COM