اولمپک میڈلسٹ واحد ایرانی لڑکی نے ملک چھوڑ دیا | کھیل | DW | 13.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

اولمپک میڈلسٹ واحد ایرانی لڑکی نے ملک چھوڑ دیا

اکیس سالہ کیمیا علی زادے کا کہنا ہے کہ وہ منافقت، جھوٹ، نا انصافی اور چاپلوسی کا حصہ نہیں بننا چاہتیں اس لیے انہوں نے ایران کو ہمیشہ کے لے ترک کردیا ہے۔

 

 تاہم علی زادے نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے کس ملک میں پناہ لی ہے۔ علی زادے تائیکونڈو کی بہترین کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے ایران چھوڑنے کا اعلان سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر کیا اور کہا کہ " وہ ایران کی لاکھوں مظلوم خواتین میں سے ایک ہیں۔" انہوں نے لکھا کہ یوروپ آنے کی انہیں کسی بھی ملک نے دعوت نہیں دی تھی تاہم یہ نہیں بتایا کہ وہ کس ملک میں پہنچی ہیں۔

خبر رساں ادرے اے ایف کی اطلاعات کے مطابق وہ فی الوقت نیدرلینڈ میں ٹریننگ کر رہی ہیں۔ سن دو ہزار سولہ کے ریو اولمپک میں انہوں نے ایران کے لیے تائیکونڈو میں کانسے کا تمغہ جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اولمپک کے کسی بھی مقابلوں میں وہ ایران کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی اور واحد خاتون ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب ایران میں حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہورہے ہیں، علی زادے نے انسٹاگرام پر لکھا، "کیا میں ہیلو کے ساتھ شروع کروں، خدا حافظ کے ساتھ یا پھر تعزیت کا اظہار کروں؟"

ایرانی حکومت پر سخت الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے محترمہ علی زادے نے لکھا کہ انہیں تائیکونڈو، اپنی سکیورٹی اور صحت مند و خوشحال زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، "میں ان لاکھوں مظلوم ایرانی خواتین میں سے ایک ہوں جس کے ساتھ وہ برسوں سے کھیلتے رہے ہیں۔ میں نے وہی لباس پہنے جس کی انہوں نے اجازت دی ہے۔ انہوں نے ہم سے جو بھی کچھ کہنے کو کہا، ہم نے وہی بات دہرا دی۔ ان کے لیے ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ہم سب بیوقوف ہیں۔"

Iran Rugby Frauen (Getty Images/AFP/A. Kenare)

ایرانی خواتین رگبی کھیلتے ہوئے

کیمیا علی زادے کا کہنا تھا کہ حکومت کھیل کے میدان میں ان کی کامیابیوں کا استحصال کرتی رہی لیکن حکام انہیں اس طرح کی باتیں کہہ کر بے عزت بھی کرتے رہے کہ "ایک خاتون کے لیے اس طرح پیروں کا پھیلانا زیب نہیں دیتا ہے۔"

جمعرات کے روز سے کیمیا علی زادے لاپتہ تھیں اور ان کی گمشدگی ایران کے لیے ایک صدمے سے کم نہیں تھی۔ ایران کے ایک رکن پارلیمان  عبدالکریم حسین زادے نے اس کے لیے حکومت پر سخت الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہ اہل حکام قیمتی انسانی سرمائے کو ملک سے فرار ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔

BdT Irans Frauen-Nationalmannschaft gegen Berlin-Kreuzberg (picture-alliance/dpa)

ایرانی خواتین ہر کھیل میں نمایاں نظر آتی ہیں

 

ایران میں طلبہ کی نیوز ایجنسی 'اسنا' نے جمعرات کو شائع ہونے والی ایک خبر میں علی زادے کی گمشدگی کو صدمے سے تعبیر کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ نیدر لینڈ ہجرت کر گئی ہیں۔ اس کے مطابق وہ اس برس ٹوکیو میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں شرکت کے لیے ٹریننگ لے رہی ہیں تاہم اس بار وہ ایرانی پرچم کے ساتھ نہیں ہوگی۔

کیمیا علی زادے نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کہی تاہم انہوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ جہاں کہیں بھی دنیا میں ہوں گی ہمیشہ ایران کی بیٹی ہی رہیں گی۔

ص ز/ک م / ایجنسیز

 

DW.COM