اوسلو میٹنگ اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے، طالبان | حالات حاضرہ | DW | 25.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اوسلو میٹنگ اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے، طالبان

افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے یورپ کے پہلے دورے کے دوران اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ساتھ ملک میں انسانی بحران پر تاریخی بات چیت کی۔ طالبان رہنماوں نے اسے' اپنے آپ میں ایک کامیابی' قرار دیا۔

طالبان نے افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد یورپ کے اپنے پہلے دورے کے دوران پیر کے روز ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت اوسلو کے باہر ایک برفانی پہاڑ پر واقع سوریا موریا ہوٹل کے بند کمرے میں ہو رہی ہے۔ طالبان وفد کی قیادت عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کر رہے ہیں۔ میٹنگ میں امریکا، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، یورپی یونین اور ناروے کے نمائندے موجود ہیں۔

پیر کے روز بات چیت کے اختتام پر امیر خان متقی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مغربی ملکوں کے عہدیداروں کے ساتھ اس ملاقات کو "اپنے آپ میں ایک کامیابی" قرار دیا۔ بات چیت اتوار کے روز طالبان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقات کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔

تمام افغانوں کو مل کر کام کرنا ہوگا

بین الاقوامی برادری کا تاہم اصرار ہے کہ انسانی بحران اور بالخصوص بھوک کے خطرے سے دو چار افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کے لیے مالی امداد کی بحالی سے قبل طالبان کو انسانی حقوق کا احترام کرنا ہوگا۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، "ناروے کی جانب سے ہمیں یہ موقع فراہم کرنا اپنے آپ میں ایک کامیابی ہے کیونکہ ہم نے دنیا کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا ہے۔"  انہوں نے مزید کہا، " ان ملاقاتوں سے ہمیں افغانستان کے انسانی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حمایت اور ملنے کا یقین ہے۔"

اس دوران نائب وزیر اطلاعات اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میٹنگ کے بعد ایک ٹوئٹ کرکے بتایا، "اجلاس کے شرکاء نے تسلیم کیا کہ افہام و تفہیم اور مشترکہ تعاون ہی افغانستان کے تمام مسائل کا واحد حل ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے بہتر نتائج کے لیے تمام افغانوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ "

ناروے کی نکتہ چینی

 ناروے کی دعوت پر اوسلو آنے والے طالبان کے 15رکنی وفد میں تحریک طالبان کے سب سے پرتشدد دھڑے حقانی نیٹ ورک کے ایک رہنما انس حقانی بھی شامل ہیں۔ ان پر افغانستان میں ہونے والے بعض انتہائی تباہ کن حملوں کے الزامات لگائے گئے تھے۔

انس حقانی کی آمد اور میٹنگ میں شرکت کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔۔ ایک مقامی میڈیا ذرائع کے مطابق ناروے میں مقیم ایک افغان نے اوسلو میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف جنگی جرائم کے لیے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔

تاہم ناروے کی وزیر برائے بین الاقوامی ترقیات اینی بیتھے ٹوینیریم نے نشریاتی ادارے این آر کے سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک ایسا ملک ہے جو کئی دہائیوں سے جنگ سے دوچار رہا ہے۔ اور اگر آپ ان لوگوں سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں جو کسی لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں، جو افغانستان پر واقعی حکومت کرتے ہیں تو آپ کو توقع کرنی ہوگی کہ ان میں سے کچھ کے ہاتھ خون آلود ہوں گے۔"

افغانستان میں 20برس بعد گزشتہ اگست میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کی انسانی صورت حال ابتر ہوتی جارہی ہے۔بین الاقوامی امداد اچانک رک جانے کی وجہ سے لاکھوں افراد بھوک کا شکار ہورہے ہیں۔خشک سالی نے حالت مزید خراب کردی ہے۔

طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا وعدہ نہیں

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے ایک ٹوئٹ میں کہا،"جب ہم اتحادیوں، شراکت داروں اور امدادی تنظیموں کے ساتھ مل کر انسانی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم مستحکم، حقوق کا احترام کرنے والے اور جامع افغانستان میں اپنے تحفظات اور اپنے مستقل مفاد کے حوالے سے طالبان کے ساتھ واضح سفارت کاری جاری رکھیں گے۔"

قابل ذکر ہے کہ ابھی تک کسی ملک نے افغانستان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے مگر طالبان کو امید ہے کہ اس قسم کے اجلاس سے ان کی حکومت کو قانونی حیثیت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

تاہم ناروے کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات "طالبان کی قانونی حیثیت یا تسلیم کرنے کی عکاسی نہیں کرتے، البتہ انسانی ایمرجنسی کی وجہ سے ہمیں ملک کے حقیقی حکام سے بات کرنی چاہیے۔"

دریں اثنا ماہرین اور افغان تارکین وطن کے گروپوں نے طالبان کو مدعو کرنے کے لیے ناروے حکومت کی نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے دارالحکومت اوسلو میں وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر مظاہرے بھی کیے۔

ج ا/ ص ز  (اے ایف پی، اے پی)

DW.COM