اوسلو: طالبان اور مغربی نمائندوں میں پہلے دن کیا بات ہوئی؟ | حالات حاضرہ | DW | 24.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

اوسلو: طالبان اور مغربی نمائندوں میں پہلے دن کیا بات ہوئی؟

طالبان نے اوسلو میں مغربی ملکوں کے نمائندوں کے ساتھ اپنی پہلی باقاعدہ بات چیت کے پہلے روز کے اختتام پرکہا،'' یہ میٹنگ افغان حکومت کو قانونی طور تسلیم کرانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔‘‘

ناروے کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اوسلو پہنچنے والے طالبان حکومت کے وفد کے ساتھ اتوار کے روز بات چیت شروع ہوئی۔ جس میں افغانستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ بات چیت میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان اور بیرون ملک مقیم افغان بھی شامل ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 15مرد اراکین پر مشتمل طالبان کا ایک وفد ناروے کی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ خصوصی طیارے کے ذریعہ ہفتے کے روز رات دیر گئے اوسلو پہنچا تھا۔ ادھراوسلو میں طالبان کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

کیا باتیں ہوئیں؟

طالبان کے ایک عہدیدار نے پہلے دن کی بات چیت کے اختتام پر خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ میٹنگ افغان حکومت کو قانونی طور تسلیم کرانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔

انہوں نے مزید کہا،''اس طرح کی دعوت اور بات چیت سے یورپی کمیونٹی، امریکا اور بہت سے دیگر ملکوں کو افغان حکومت کے حوالے سے غلط تصور کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

حالانکہ بیشتر ملکوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذاکرات کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ وہ طالبان کو افغانستان کا قانونی حکمراں تسلیم کرلیں گے۔

افغانستان میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم جمیلہ افغانی نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کچھ مثبت ابتدائی اشارے ملے ہیں۔

انہوں نے کہا،''اختلافات کو دور کرنے کے حوالے سے یہ ایک مثبت ابتدا ہے۔ طالبان نے خیرسگالی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے سکون کے ساتھ باتیں سنیں اور ہمارے تشویشی سوالات کے جوابات دیے۔ دیکھتے ہیں کہ ان کاعمل ان کے قول کے مطابق رہتا ہے یا نہیں۔‘‘

دریں اثنا افغان شہریوں کے ایک گروپ نے ناروے کی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر مظاہرہ بھی کیا۔ یہ مظاہرین ''طالبان مردہ باد‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ سخت گیر اسلام پسند طالبان کو''دہشت گرد‘‘ قرار دے رہے تھے۔ لندن اور ٹورانٹو میں بھی ناروے کے سفارت خانوں کے باہر اسی طرح کے مظاہرے ہوئے۔

طالبان کا وفد ناروے کی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ خصوصی طیارے کے ذریعہ ہفتے کے روز اوسلو پہنچا

طالبان کا وفد ناروے کی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ خصوصی طیارے کے ذریعہ ہفتے کے روز اوسلو پہنچا

میٹنگ کا ایجنڈا کیا ہے؟

امریکی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا،''ہم ایک نمائندہ سیاسی نظام کی تشکیل، اقتصادی اور انسانی بحران کی فوری مدد، سیکورٹی، انسداد دہشت گردی، انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے موضوعات پر بات چیت کریں گے۔‘‘

اس میٹنگ میں ناروے اور یورپی یونین کے حکام کے علاوہ برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور امریکا کے حکام بھی شرکت کر رہے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اے ایف پی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے مغربی دنیا کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں اور انہیں امید ہے کہ تمام ممالک بشمول یورپی ممالک کے ساتھ ڈپلومیسی کے ذریعہ ہم اپنے تعلقات کو مستحکم کریں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا،''ہم جنگ کے ماحول کو ایک پرامن صورت حال میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

 افغان شہریوں کے ایک گروپ نے ناروے کی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر مظاہرہ کیا

افغان شہریوں کے ایک گروپ نے ناروے کی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر مظاہرہ کیا

افغان اپوزیشن ناراض

افغانستان کے حزب مخالف کے ایک گروپ قومی مزاحمت محاذ (این آر ایف) کے رہنما علی میثم نظیری نے ان مذاکرات کی خاطر طالبان کی میزبانی کے لیے ناروے پر نکتہ چینی کی۔

دوسری طرف ناروے کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ افغان مذاکرات کے یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ یہ میٹنگ طالبان کے قانونی جواز کو تسلیم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا،''تاہم ہمیں ملک کے عملا ً حکمران سے بات کرنی ہو گی۔ ہم ایسی کسی سیاسی صورت حال کی اجازت نہیں دے سکتے جس سے انسانی تباہی مزید ابتر ہو جائے۔‘‘

ج ا/       (اے ایف پی، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 02:02

کابل ایئرپورٹ پر لاپتہ ہونے والا بچہ خاندان کو مل گیا

 

DW.COM