اورگلاب مرجھا گیا! | فن و ثقافت | DW | 18.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

اورگلاب مرجھا گیا!

پاکستان کے نامور اداکار گلاب چانڈیو کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔

پاکستان کے نامور سینیئر اداکار گلاب چانڈیو کرچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ وہ کافی عرصے سے علیل تھے۔ انہیں دو روز قبل کراچی کے ایک نجی اسپتال لایا گیا جہاں آج جمعہ 18 جنوری کو ان کا انتقال ہو گیا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق گلاب چانڈیو عارضہ قلب اور شوگر میں مبتلا تھے۔گلاب چانڈیو کی تدفین ان کے آبائی شہر نوابشاہ میں کی جائے گی۔

گلاب چانڈیو نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1980 میں ڈرامہ سیریل ”خان صاحب“ سے کیا۔ ان کی آخری فلم پاکستان کے معروف باکسر شاہ حسین کی زندگی پر بننے والی بائیو پک فلم”شاہ“ تھی

گلاب چانڈیو نے کئی سپر ہٹ ٹیلی وژن ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جس میں ’نوری جام تماچی‘، ’چاند گرہن‘، ’ماروی‘، ’زہرباد‘، ’ساگر کا موتی‘ سچائیاں، ’جو نہ مل سکے‘ اور ’بے وفائیاں‘ وغیرہ شامل ہیں۔

گلاب چانڈیو کو ملک گیر شہرت ان کے ڈرامے ’نوری جام تماچی‘ سے ملی جب کہ وہ اپنے بے ساختہ مکالمہ کے باعث بھی مشہور تھے۔

گلاب چانڈیو کے لواحقین میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے سندھی اور اردو فلموں کے علاوہ سینکڑوں ڈراموں میں کام کیا۔ گلاب چانڈیو کی عمر ساٹھ برس تھی۔ نماز جنازہ اور تدفین کل نوابشاہ  میں ان کے آبائی گاؤں میں ہو گی۔

حکومت پاکستان نے اداکاری کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں 14 اگست 2015ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات