اوباما پِنگ سربراہی ملاقات مکمل | حالات حاضرہ | DW | 09.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اوباما پِنگ سربراہی ملاقات مکمل

امریکی صدر باراک اوباما اور رواں برس عہدہ سنبھالنے والے چینی صدر شی جِن پنگ کے درمیان کیلیفورنیا میں ہونے والی دو روزہ سربراہی ملاقات مکمل ہو گئی ہے۔ اس ملاقات میں شمالی کوریا اور سائبر حملوں کے حوالے سے پیشرفت ہوئی ہے۔

ان مذاکرات میں دونوں رہنماؤں نے مجموعی طور پر آٹھ گھنٹے اکٹھے گزارے، ان میں مذاکرات اور ایک عشائیے کے ساتھ دونوں صدور کی ایک ساتھ چہل قدمی شامل تھی۔ امریکی حکام کے مطابق سَنی لینڈز ریزارٹ میں غیر معمولی طور پر غیر رسمی بات چیت نے صدر شی جِن پِنگ اور صدر اوباما کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی اقوام کے مستقبل کے بارے میں اہم خیالات ایک دوسرے تک پہنچا سکیں۔

امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر تھامس ڈونیلون کے مطابق دونوں صدور نے شمالی کوریا کے جوہری تنازعے کے حوالے سے تفصیلی غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے لیے مِل کر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما اس معاملے پر کسی حد تک یکساں نقطہ نظر پر متفق ہوئے ہیں۔ ڈونیلون نے بیجنگ کی طرف سے عام طور پر اپنا حلیف سمجھے جانے والے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل تجربات پر نا پسندیدگی کے اظہار کی تعریف کی۔

اسی دوران باراک اوباما نے امریکی تجارتی اور دفاعی اداروں پر چینی سائبر حملوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں باہمی تعلقات میں ایک مشکل مسئلے سے تعبیر کیا۔ ڈونیلون کے مطابق چینی صدر نے واشنگٹن حکومت کے تحفظات تسلیم کرتے ہوئے انہیں ایک سنجیدہ مسئلہ قرار دیا۔ چينی صدر شی جن پنگ نے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک بھی ’سائبر اٹيکس‘ يا انٹرنيٹ سائٹس پر کيے جانے والے حملوں يا ’ہيکنگ‘ سے متاثر ہو رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ورکنگ گروپ کے اہلکاروں کو خصوصی ہدایات دینے کی بھی پیشکش کی۔ سائبر سکیورٹی کے حوالے سے اس ورکنگ گروپ کا اجلاس جولائی میں ہوگا۔

Obama Xi Jinping Treffen in Rancho Mirage 8.6.2013

باراک اوباما اور شی جِن پنگ

دو روزہ مذاکرات کے پہلے روز جمعہ سات جون کو صدر باراک اوباما نے دونوں ممالک کے درمیان سائبر حملوں سے متعلق مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا: ’’یہ انتہائی اہم ہے کہ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں اور فوجی قوتیں، چین اور امریکا ایک مضبوط سمجھوتے تک پہنچیں۔‘‘

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر اوباما اور شی جن پنگ نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمنٹنے کے لیے بھی مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے، خاص طور پر ہائیڈروفلوروکاربنز یا ’سپر گرین ہاؤس گیسز‘ کی پیداوار کم کرنے کے حوالے سے۔ یہ گیس ایئر کنڈیشنر اور ریفریجریٹرز میں استعمال ہوتی ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’عالمی سطح پر HFC کی 2050ء تک کمی 90 گیگا ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے برابر تک لائی جائے گی۔ یہ مقدار قریباﹰ موجودہ دو سالوں تک ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کی مشترکہ مقدار کے برابر بنتی ہے۔‘‘

شی جن پِنگ نے اپنے امریکی ہم منصب کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ ڈونیلون کے مطابق دونوں ممالک باہمی مشورے سے اس دورے کی تاریخ طے کریں گے۔ چینی صدر کا جمعے کو مذاکرات کے پہلے روز کہنا تھا، ’’بحرالکاہل اتنا وسیع ہے کہ دو بڑے ممالک چین اور امریکا اس میں سما سکیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایک مستحکم چین صرف چینی عوام کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہم ہے۔

aba/ng(AFP)

اشتہار