انگیلا میرکل: پہلی مرتبہ ایک جرمن چانسلر کا دورہٴ کرغیزستان | حالات حاضرہ | DW | 15.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انگیلا میرکل: پہلی مرتبہ ایک جرمن چانسلر کا دورہٴ کرغیزستان

انگیلا میرکل کی صورت میں پہلی مرتبہ ایک جرمن چانسلر نے کرغیزستان کا دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ اس وسطی ایشیائی ریاست کی جانب خیر سگالی کے ساتھ ساتھ اس امر کا بھی اظہار ہے کہ جرمنی وسطی ایشیا کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔

Kirgisistan Angela Merkel und Almasbek Atambajew in Bischkek

چَودہ جولائی 2016ء: بشکیک میں کرغیز صدر الماس بیک اتمبایف اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی ملاقات کے موقع پر لی گئی تصویر

آخر جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کرغیزستان کا ہی دورہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ وسطی ایشیا کے اس ملک کے تقریباً چھ ملین باشندوں کے لیے انگیلا میرکل کا اُن کے ملک میں آنے کا فیصلہ اتنا غیر متوقع تھا کہ وہاں کے ذرائع ابلاغ میں یہ افواہیں گردش کرتی رہیں کہ جرمنی کرغیزستان میں مہاجرین کا ایک کیمپ قائم کرنا چاہتا ہے۔

جرمن تحقیقی جریدے ’وسطی ایشیا انیلیسس‘ کی پبلشر بیاٹے ایشمنٹ کہتی ہیں:’’جب مسز میرکل اولان باتور جاتے ہوئے راستے میں بشکیک میں رُکتی ہیں تو یہ خیر سگالی کا اظہار ہے، اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ ہمارے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔‘‘

جمعرات کو میرکل منگولیا جاتے ہوئے ایک روز کے لیے کرغیزستان میں رُکی تھیں۔ منگولیا کے دارالحکومت اولان باتور میں جمعے سے ایشیا یورپ سمٹ شروع ہو رہا ہے۔ یہ دورہ علامتی اہمیت کا حامل تھا۔

ایشمنٹ کے مطابق:’’خیر سگالی کا اظہار بہت اہم ہو سکتا ہے۔ کسی کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ وہاں کے لوگوں کو فخر تھا کہ جرمن چانسلر وہاں گئیں۔‘‘ دوسری جانب یہ دورہ اس ملک کے صدر اور اُن کی حکومت کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بھی بنا۔

بشکیک میں کرغیز صدر الماس بیک اتمبایف کے ساتھ اپنی ملاقات میں میرکل نے اس ملک میں ہونے والی سیاسی پیشرفت کو سراہا:’’اپنے جس الگ راستے پر کرغیزستان 2010ء سے عمل پیرا ہے، ہم اُسے قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔‘‘

وسطی ایشیا میں کرغیزستان کے دیگر ہمسایہ ملکوں میں مطلق العنان حکومتیں قائم ہیں لیکن کرغیزستان، جہاں چھ سال پہلے حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا، گزشتہ چھ برسوں سے مغربی طرزِ جمہوریت اپنانے کے راستے پر گامزن ہے۔

صدر الماس بیک اتمبایف کے ساتھ ملاقات میں چانسلر انگیلا میرکل نے وعدہ کیا کہ وہ کرغیزستان کو یورپی یونین کے مزید قریب لانے کے لیے کوششیں عمل میں لائیں گی۔ کرغیزستان 2015ء میں یوریشین اقتصادی یونین میں شامل ہوا تھا، جس کا روس بھی رکن ہے۔

Transparent an einer Brücke Angela Merkel in Kirgisien

کرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں جرمن چانسر انگیلا میرکل کے لیے لگائے گئے خیر مقدمی بینرز کا ایک منظر

وسطی ایشیائی امور کی جرمن ماہر بیاٹے ایشمنٹ کے مطابق ’کرغیزستان میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ روس کے خلاف یورپی یونین کی پابندیوں کے خاتمے میں کرغیزستان کی بھی بہتری ہے‘۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اتمبایف روس اور یورپ کے درمیان تعلقات کی بہتری کی امید کر رہے ہیں۔

فلوریان کوپیراتھ کرغیزستان میں جرمن ادارے رابرٹ بوش فاؤنڈیشن سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جیسے ہی چانسلر میرکل کے دورہٴ کرغیزستان کا اعلان ہوا، وہاں کے پریس میں بہت مثبت ردعمل دیکھنےمیں آیا کیونکہ یہ دورہ ایک طرح سے کرغیزستان میں جاری سیاسی عمل کی پُر زور حمایت کا اظہار تھا۔