انکم ٹیکس ادا کرنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں، کنگنا رنوت | فن و ثقافت | DW | 10.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

انکم ٹیکس ادا کرنے کے لیے میرے پاس پیسے نہیں ہیں، کنگنا رنوت

بھارتی اداکارہ کنگنا رنوت خود کو ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی اداکارہ ہونے کا دعویٰ اور ٹیکس دہندگان کی کم تعداد پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رنوت نے کہا ہے کہ گزشتہ برس 'کام نہیں ملنے‘ کی وجہ سے وہ پچھلے سال کے اپنے انکم ٹیکس کا نصف ادا نہیں کرسکی ہیں۔  تاہم انہوں کہا کہ اگر حکومت واجب الادا رقم پر سود عائد کرتی ہے تو انہیں کوئی شکایت نہیں ہوگی۔

کنگنارنوت نے اپنے انسٹا گرام پر لکھا ہے”گوکہ میں سب سے زیادہ ٹیکس سلیب میں آتی ہوں اور اپنی آمدنی کا45 فیصد ٹیکس کے طور پر ادا کرتی ہوں، گوکہ میں بھارت میں سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والی اداکارہ ہوں لیکن زندگی میں پہلی مرتبہ میں اپنا آدھاٹیکس ادا نہیں کر سکی کیونکہ مجھے کام نہیں مل سکا۔"

مختلف امور پر متنازعہ بیانات دینے کے لیے مشہور اور خود کو ہندو قوم پرستی کاعلمبردار پکارنے نے والی اداکارہ کنگنا رنوت نے مزید لکھا، ”مجھے ٹیکس ادا کرنے میں تاخیر ہوگئی اور حکومت بقیہ واجب الادا رقم پر سود لگا رہی ہے لیکن اس کے باوجود میں اس اقدام کا خیر مقدم کرتی ہوں۔" انہوں نے لکھا، ”ذاتی طورپر یہ ہمارے لیے مشکل گھڑی ہوسکتی ہے لیکن ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہم وقت سے بھی زیادہ طاقت ور بن سکتے ہیں۔"

دعوی گمراہ کن

کنگنا رنوت انکم ٹیکس کے معاملے پر کافی سرگرم رہی ہیں۔ وہ ملک میں کم انکم ٹیکس دہندگان مدعے پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے چند ماہ قبل اداکارہ تاپسی پنّو اور فلم ساز انوراگ کشیپ کے دفتر پر انکم ٹیکس محکمہ کے چھاپے کے بعد کئی ٹوئٹ کر کے ان دونوں کو 'ٹیکس چور‘ اور 'غدار‘ کہا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکس سے متعلق کنگنا رنوت کا دعویٰ گمراہ کن لگتا ہے کیونکہ بھارت میں حکومت سالانہ آمدنی کی بنیاد پر ہی ٹیکس عائد کرتی ہے اور اگر اداکارہ کو کام نہیں ملنے کی وجہ سے آمدنی نہیں ہوسکی تو ان پر اتنا ٹیکس کیوں کر عائد ہو گیا کہ وہ اسے ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں؟

ٹیکس امور کی ماہر چارٹرڈ اکاونٹنٹ گوری چڈھا کہتی ہیں، ”آپ پر اسی وقت انکم ٹیکس لگے گا جب آپ کی آمدنی ہوئی ہو۔ حکومت آپ کی پچھلے سال کی آمدنی پر ٹیکس لیتی ہے۔ آپ اسے تین تین ماہ پر ایڈوانس ٹیکس کے طور پر بھی ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ گزشتہ برس کے ٹیکس کی بات کر رہی ہیں۔ اس لیے ایڈوانس ٹیکس جیسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس لیے وہ انکم ٹیکس ادا نہیں کرنے کا یہ کہتے ہوئے دفاع نہیں کرسکتی ہیں کہ کام نہیں تھا اس لیے نہیں ادا کرسکی۔"

ایک اور چارٹرڈ اکاونٹنٹ ویریندر یادو کہتے ہیں، ”کنگنا جس طرح کی بات کر رہی ہیں اس سے لگتا ہے کہ انکم ٹیکس ادا کرنے کی تاریخ اور اس کے بعد اس میں توسیعی مدت گزر جانے کے باوجود وہ پورا ٹیکس ادا نہیں کرسکیں جس کی وجہ سے محکمہ ٹیکس نے بقیہ ٹیکس پر سود کے ساتھ رقم کا ان سے مطالبہ کیا ہے۔"

تحائف پر کروڑ وں روپے خرچ کیے

ماہرین کے خیال میں آمدنی پر 45 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا کنگنارنوت کا دعویٰ بھی غلط نظر آتا ہے۔ ویریندر یادو کہتے ہیں بھارت میں انکم ٹیکس کی زیاہ سے زیادہ شرح 35.88 فیصد ہے۔ حالانکہ اتنی زیادہ آمدنی والے لوگوں پر بعض محصولات بھی عائد کیے جاتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود بھی انکم ٹیکس کی مجموعی شرح 45 فیصد نہیں بنتی ہے۔ دوسری طرف ایسے لوگوں کو بعض چیزوں میں چھوٹ بھی دی جاتی ہے۔

حال ہی میں ایک مقامی میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کنگنا رنوت نے رواں برس فروری میں اپنے بھائی اور بہنوں کو چار شاندار فلیٹ تحفے میں دیے۔ ان کی مجموعی قیمت چار کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ کہ گزشتہ برس اپنے بھائی کی شادی میں بھی کنگنا نے کافی رقم خرچ کی تھی۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس شادی پر انہوں نے چھ کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔

کنگنا رنوت بالی ووڈ کی مصروف ترین اداکاروں میں شامل ہیں۔ وہ نیم فوجی دستے کے گیارہ جوانوں پر مشتمل وائی پلس سکیورٹی زمرہ حاصل کرنے والی بھارت کی پہلی اداکارہ بھی ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 01:45

بھارتی فلم انڈسٹری کی خواتین کی شنوائی ہو سکی گی؟

DW.COM