انڈر نائنٹین عالمی کپ، پاکستان کی رُسوا کن کاردگی | کھیل | DW | 27.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

انڈر نائنٹین عالمی کپ، پاکستان کی رُسوا کن کاردگی

دو مرتبہ کی چیمپئن پاکستانی ٹیم کو انڈر نائٹین کرکٹ عالمی کپ کے چار فائنلز کھیلنے کا اعزاز ہے مگر آسٹریلیا میں اتوار کو ختم ہونے والا ٹورنامنٹ اس کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا۔

پاکستان کی جونیئر کرکٹ ٹیم انیس سال سے کم عمر کھلاڑیوں کا عالمی کپ کھیلنے کے بعد آج وطن واپس پہنچی ہے۔ روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں کوارٹر فائنل کی ایک وکٹ کی شکست کا گھاؤ پاکستانی ٹیم کو تاریخ کے بدترین آٹھویں نمبر پر لے گیا۔

ٹیم کی وطن واپسی پر لاہور میں ڈی ڈبلیو ریڈیو کو انٹرویو میں پاکستانی مینیجر ہارون رشید نے بتایا کہ عمدہ ابتدا کے بعد پاکستانی ٹیم کا آٹھویں نمبر پر آنا ان کے لیے بھی حیران کن تھا۔ ماضی میں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ہارون رشید نے کہا، ’’بھارت کے خلاف پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ درست تھا کیونکہ اس پچ پر پہلے ہی چارمیچز ہوچکے تھے مگر بیٹنگ نے امیدوں پر پانی پھیر دیا‘‘۔ تاہم ہارون کے بقول ایک میچ کی شکست سے دلبرداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔

Harron Rashid Sabih Azhar Cricket Lahore Pakistan

پاکستانی مینیجر ہارون رشید اور کوچ صبیح اظہر

سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدلقادر نے شرمناک شکست پر ٹیم مینیجر اور کوچ کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا، ’’سلیکشن میں بدنیتی کے سبب ہمیں یہ دن دیکھنا پڑا۔ آسٹریلیا میں دو لیفٹ آرم اسپنرز کھلانے کی انکوائری ہونی چاہیے۔گز شتہ عالمی کپ میں پاکستان کوفائنل میں پہنچانے والے اعجاز احمد کی جگہ صبیح اظہر کو ٹیم کا دو ہزار پندرہ تک کوچ مقرر کرنا سمجھ سے بالاتر تھا‘‘۔

انہوں نے مزید کہا، ’’جب وہ چیف سلیکٹر تھے تو صبیح اظہر کے خلاف اکثر شکایات ان کے اپنے علاقے راولپنڈی سے آتی تھیں مگر پی سی بی نے انڈر نائنٹین ٹیم اس کے سپرد کر دی۔ جس کی تحقیقات ہونی چاہیں‘‘۔

انہوں نے کہا جو لوگ اکیڈمی میں کوچنگ کرتے ہیں، انہیں ہی بندر بانٹ کے تحت ٹیموں کے ساتھ غیر ملکی دوروں پربھیجا جا رہا ہے، جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

Babar Azaam Kapitän Cricket Team Lahore Pakistan

ٹورنامنٹ میں پاکستان کی جانب سے کپتان بابر اعظم 287 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے

سابق ٹیسٹ بیٹسمین اعجاز کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرکے ہم نے غلطی کی۔ اعجاز احمد جو آسٹریلوی سرزمین پر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ سینچریاں بنا چکے ہیں نے کہا کہ سمیع اسلم جیسے بیٹسمیں پہلی بارکھیل رہے تھے اور بہتر ہوتا کہ اس چمپئن شپ کی تیاری کے لیے ان کھلاڑیوں کی بھی خدمات سے فائدہ اٹھایا جاتا، جنہیں آسٹریلیا میں کھیلنے کا تجربہ تھا۔ اعجاز احمد نے بابر اعظم کی بیٹنگ کو سراہا۔

آسٹریلیا میں دو لیفٹ آرم اسپنرز کھلانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ہارون رشید کا کہنا تھا، ’’عثمان قادر ایشیا کپ سے ہی ان فٹ تھے۔ ہم نے تین تین اسپنرز کھلا کر بھی میچز جیتے، مگر اس دن قسمت نے یاوری نہیں کی‘‘۔

بھارت کے بعد ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش جیسی کمزور ٹیموں کے خلاف شکست بھی پاکستانیوں کو ہضم نہیں ہورہی۔ تاہم ہارون رشید کہتے ہیں کہ بھارت کے خلاف شکست کے بعد ٹیم کا مورال ڈاون ہو گیا تھا، جس کے سبب وہ باقی دونوں میچ ہار گئی۔ تاہم ہارون رشید کے مطابق پاکستان کو اس انڈر نائٹین عالمی کپ سے سات ایسے کھلاڑی مل گئے ہیں، جو مستقبل میں اثاثہ ثابت ہوں گے۔ ہارون کے بقول بابر اعظم ، سمیع اسلم، محمد نواز، ضیاء الحق، سلمان قادر، عزیز اللہ اور عمر وحید جیسے کھلاڑیوں کا مستقبل تابناک ہے۔

ٹورنامنٹ میں پاکستان کی جانب سے کپتان بابر اعظم 287 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر رہے، جس میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک سینچری بھی شامل تھی۔ بابر کے علاوہ کوئی بیٹسمین دو سو رنز بھی نہ بنا سکا۔ باؤلنگ میں لیفٹ آرم فاسٹ باؤلر ضیاء الحق، جن کا باؤلنگ ایکشن عالمی کپ کے دس بہترین ایکشنز میں شامل کیا گیا ہے، گیارہ وکٹیں لے کر قابل ذکر رہے۔

رپورٹ: طارق سعید، لاہور

ادارت: امتیاز احمد