انٹرپول، ہیروں کے بھارتی تاجر نیرؤ مودی کے پیچھے | معاشرہ | DW | 02.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

انٹرپول، ہیروں کے بھارتی تاجر نیرؤ مودی کے پیچھے

اطلاعات کے مطابق ہیروں کا یہ بھارتی تاجر گرفتاری سے بچنے کے لیے برطانیہ فرار ہو چکا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک بینک کے ساتھ دو بلین ڈالرز کی ہیرا پھیری کی ہے۔

انٹرپول نے آج جمعرات دو جولائی کو کہا ہے کہ اس نے ارب پتی بھارتی نیرؤ مودی کی گرفتاری کے لیے ’ریڈ وارنٹ‘ جاری کر دیے ہیں۔ ہیروں اور سونے کے اس تاجر کے بارے میں خیال ہے کہ اُس نے بھارت کے ایک بڑے بینک کے ساتھ دو بلین امریکی ڈالرز کے برابر رقم کا فراڈ کیا ہے۔ اس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ گزشتہ ماہ برطانیہ فرار ہو گیا تھا جہاں اس نے اطلاعات کے مطابق سیاسی پناہ کی درخواست دے دی ہے۔

انٹرپول کے مطابق ریڈ نوٹس دراصل ’’کسی ایسے شخص کو تلاش اور گرفتار کرنے کی درخواست ہوتی ہے جو کسی ملک کو مطلوب ہو‘‘۔ خیال  رہے کہ ریڈ نوٹس پر عملدرآمد کسی ملک کے لیے رضاکارانہ ہو سکتا ہے مگر وہ قانونی طور پر اس پر عملدرآمد کے پابند نہیں ہوتا۔

بھارت کے پنجاب نیشنل بینک (PUB) کا دعویٰ ہے کہ مودی اور اس کے ایک انکل میہول چوکسی نے اس بینک کے ساتھ 1.8 بلین امریکی ڈالرز کے برابر رقم کا فراڈ کیا ہے۔

47 سالہ مودی کو اس کے اپنے ڈائمنڈ جیولری برانڈ کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس برانڈ کو پہننے والوں میں ناؤمی واٹس اور کیٹ ونسلیٹ بھی شامل ہیں۔ ’نیرؤ  مودی گلوبل ڈائمنڈ جیولری ہاؤس‘ کی دنیا بھر میں مختلف جگہوں پر دکانیں ہیں جن میں بھارت کے کئی شہر بھی شامل ہیں۔ اس کے ذاتی سرمائے کا اندازہ 1.73 بلین ڈالرز ہے اور فوربز میگزین کے مطابق وہ بھارت کا 85واں امیر ترین شخص ہے۔

گزشتہ ماہ نیرؤ مودی کے اچانک غائب ہونے پر ملک بھر میں شور شرابہ ہوا تھا۔ نیرؤ مودی کا بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق تو نہیں ہے مگر بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے ہی نیرؤ مودی کو ملک سے فرار ہونے میں مدد دی تھی۔

نیرؤ مودی پر منی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے تاہم اس کے وکلاء کے بقول مودی نے اس الزام کی شدت سے تردید کی ہے۔

ا ب ا / ا ا (اے ایف پی، روئٹرز)