انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں بھٹکتی جوانیاں | دستک | DW | 14.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں بھٹکتی جوانیاں

’’بہت سے نئے آنے والوں کو انٹرٹینمنٹ اور فیشن انڈسٹری تک پہنچنے کے لیے اندھیری راہداریوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ میں کہتی ہوں ماڈلنگ پورٹ فولیو بنانے سے شروع ہونے والا استحصال کا سلسلہ پھر کبھی ختم نہیں ہوتا۔‘‘

میں فون پر ایک ماڈل گرل سے بات کر رہی تھی اور وہ یہ نکشافات کرتی جا رہی تھی۔ وہاڑی سے کراچی پہنچ کر ماڈلنگ میں اپنا کیریئر بنانے والی یہ لڑکی ٹک ٹاک پر بھی خاصی متحرک ہے۔ نام بتانے کی ضرورت یوں بھی نہیں کہ ان نو وارد ماڈلز، ٹک ٹاکرز اور فنکاراؤں کی کہانی لگ بھگ ایک سی ہے۔

میں نے فیس بک پر یونہی لکھا 'ماڈلنگ اینڈ ایکٹنگ ایجنسی‘ تو کئی پیج سامنے آ گئے، کسی کا ڈی ایچ اے میں دفتر ہے تو کوئی شاہراہ فیصل پر آفس کھولے بیٹھا ہے۔ اکثر میں جو قدر مشترک لگی وہ ایسے اشتہار تھے، جس میں ایجنسی کو غیر ملکی برانڈ کے لیے ''بولڈ فوٹو شوٹ‘‘میں پندرہ سے پچیس سال کی لڑکیاں درکار ہیں، کمنٹ کے آپشن میں کئی لڑکیاں دلچسپی ظاہر کرتی نظر آئیں۔ بڑے بینر والی پی آر ایجنسیز اور ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کا موضوع تو اور بھی پیچیدہ اور مختلف ہے۔
میں نے اس ماڈل سے ان فیس بک اشتہاروں کا ذکر کیا تو وہ ہنس کر ایسی کئی ایجنسیوں اور ان کے میڈیا کوارڈینیٹرز کے نام گنوانے لگی، جو ماڈلنگ اور ایکٹنگ کی ریکروٹمنٹ کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں۔ ان لڑکیوں میں بعض ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا ایپلیکیشنز پر موجود ہیں۔
میں نے اس لڑکی کو کہا کہ میں معروف اینکر اقرار الحسن نہیں، جو بھیس بدل کر کسی ماڈلنگ ایجنسی کے دفتر کیمرے لے جاؤں، ہاں یہ سمجھنے کی کوشش ضرور کر رہی ہوں کہ ماڈلنگ اور ٹیلنٹ کھوجنے والی ایجنسیاں کیسے اور کن قوانین کے تحت کام کرتی ہیں؟
پاکستان میں فلم انڈسٹری گزشتہ چند برسوں کے دوران لاہور سے کراچی شفٹ ہوئی، اشتہارات بنانے والی ایجنسیوں کا گڑھ بھی کراچی ہے۔ اس لیے یہاں ماڈلنگ ایجنسیاں بھی ان گنت ہیں اور ڈرامہ پروڈکشن بھی بڑی تعداد میں کراچی میں ہی ہو رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:20

سعودی عرب میں کام کرنے والا پاکستانی بڑھئی ماڈل بن گیا


میں نے کم بجٹ میں منفرد فلمیں بنانے والے فلم پروڈیوسر ابو علیحہ سے ملاقات رکھی، سوال ان کی فلمیں نہیں بلکہ وہ ڈرامے تھے، جو ٹیلنٹ ہنٹ کے نام پر ہر دوسری تیسری غیر معروف ایجنسی میں چل رہے ہیں، ''انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنا نام بنانے، راتوں رات مشہور اور امیر ہونے کے لیے پاکستان بھر سے شوقین نوجوان لڑکے لڑکیاں کراچی کا رخ کرتے ہیں، یہاں ہوسٹلز میں رہتے ہیں، عطائی حکیموں کی طرح پھیلی ماڈلنگ ایجنسیوں کے ہتھے چڑھتے ہیں، کچھ پیسوں سے قلاش ہوکر واپس لوٹ جاتے ہیں کچھ جسمانی استحصال پر سمجھوتے کر لیتے ہیں اور گنتی کے چند ایک تمام رکاوٹیں عبور کرکے واقعی کچھ بن جاتے ہیں۔ یہ وہ ہوتے ہیں، جن کی پرفارمنگ آرٹس کے مستند اداروں تک پہنچ نہیں۔‘‘
وہ ایک سانس میں پوری واردات سنانا چاہتے تھے کہنے لگے، ’’کراچی بلکہ ملک بھر میں کتنی ٹیلنٹ ایجنسیاں ہیں؟ ماڈلنگ ایجنسیاں کن قوانین کے تحت بنتی ہیں؟ کس ریگولیٹر کے تحت کام کرتی ہیں؟ اگر کوئی لڑکی یا لڑکا ان ایجنسیوں کے ہاتھوں لٹ جائے تو کون سا ادارہ اس کی شنوائی کرے گا؟ کسی کو نہیں معلوم۔‘‘ ابوعلیحہ چونکہ ماضی میں صحافی رہے ہیں اس لیے ان کے پاس بھی جواب کے بجائے درجنوں سوال ہی تھے۔

پاکستان میں سیاست صحافت کا اتنا وقت کھا جاتی ہے کہ صحافیوں کو دیگر بظاہر غیر اہم موضوعات پر تحقیقی رپورٹنگ کا موقع کم کم ہی ملتا ہے۔ قومی سطح کے بڑے نام اور تجربے والے صحافی ایسی خبروں کو شام کے اخبارات کی سستی اور سنسنی خیز خبریں کہہ کر اہمیت نہیں دیتے تھے۔
لیکن جب ٹک ٹاک اسٹار وزارت خارجہ کے دفتر میں گانا فلمائے، ایک گلوکارہ ڈی سی کے بنگلے پر وڈیو بنا لے، بعض سیاستدانوں کے ہمراہ ان کی ویڈیوز وائرل ہوں، یہاں تک کہ ٹک ٹاک کی ایک اسٹار ماڈل کو پروڈیوسر سید نور اپنی فلم میں کاسٹ کر لیں تو اس موضوع پر سنجیدہ رپورٹنگ کی شدید ضرورت ہے۔
پاکستان میں شوبز، انٹرٹینمنٹ، انفوٹینمنٹ، ایڈورٹائزمنٹ اور سوشل میڈیا اسٹارڈم آپس میں اتنا مدغم ہو چکے ہیں کہ ضروری نہیں جو ٹویٹر پر ہزاروں لاکھوں فالوورز رکھے اور صحافی ہونے کا دعویٰ کرے وہ واقعی صحافی ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو ٹک ٹاک یا انسٹاگرام پر لاکھوں مداحوں میں مقبول ہو وہ واقعی فنکار ہو۔
اس وقت عالم یہ ہے کہ فنکاروں کی نمائندہ تنظیموں کے پاس فنکاروں، نئے چہروں کا کوئی باقاعدہ ڈیٹا بیس نہیں، پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے فلمسازوں کو پابند نہیں کر سکتی، فیشن ماڈلنگ کی کوئی تنظیم ایسی نہیں، جو ماڈلنگ کے نام پر چلنے والے استحصالی فراڈ اداروں کو قانون کے دائرے میں لا سکے۔
نئے ڈیجیٹل دور کے ان سوشل میڈیا ستاروں کی نہ کوئی گنتی ہے، نہ ڈیٹا بیس، نہ اس ڈیجیٹل شو بزنس میں گردش کرتے پیسے کا کہیں کوئی ریکارڈ ہے۔
روایتی اور ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سنجیدہ شعبوں کی کسی گنتی میں آئے گی تب ہی بات بنے گی ورنہ تو نئی آنے والی لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے اژدھے پھن پھیلائے بیٹھے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات