انٹرنيٹ پر جاسوسی کا معاملہ پيچيدگی اختيار کرتا ہوا | حالات حاضرہ | DW | 08.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

انٹرنيٹ پر جاسوسی کا معاملہ پيچيدگی اختيار کرتا ہوا

رواں ہفتے امريکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور برطانوی اخبار گارڈين ميں امريکا کی طرف سے انٹرنيٹ پر جاسوسی کيے جانے کی رپورٹيں شائع ہونے کے بعد امريکا سميت يورپ اور ديگر مقامات ميں اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔

انٹرنيٹ سرچ انجن گوگل کے سربراہ ليری پيج نے گزشتہ روز امريکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اس بات سے واقف ہيں کہ امريکا اور ديگر ملکوں کی حکومتوں کو اپنے شہريوں کی حفاظت کے ليے خفیہ طور پر پڑتال کرنی پڑتی ہے۔ تاہم اس سلسلے ميں موجودہ قوانين کے گرد خاموشی اور رازداری ہم سب کی آزادی کو منفی انداز ميں متاثر کرتی ہے۔‘‘

اسی دوران سماجی رابطے کی ويب سائٹ فيس بُک کے شريک بانی مارک زوکربرگ نے بھی انٹرنیٹ کمپنیوں کے ڈیٹا کی خفیہ طور پر پڑتال کی مذمت کی۔ انہوں نے جمعے کے روز جاری کردہ اپنے ايک آن لائن بيان ميں کہا، ’’فيس بُک کبھی ايسے کسی منصوبے کا حصہ نہ تھا اور نہ ہے جس کے تحت ہم امريکا يا کسی اور فريق کو اپنے سرورز تک رسائی فراہم کريں۔‘‘

دريں اثناء يورپی اہلکاروں نے بھی ان رپورٹوں کے تناظر ميں ’برہمی‘ کا اظہار کيا ہے۔ جرمنی کے ڈيٹا پروٹيکشن اينڈ فريڈم آف انفارميشن کمشنر پيٹر شار نے مطالبہ کيا کہ امريکا کو اس سلسلے ميں مزيد وضاحت پيش کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امريکی حکومت کی جانب سے يہ يقين دہانی کہ پڑتال امريکا ميں بسنے والوں کی نہيں بلکہ امريکا سے باہر رہنے والوں کی کی جا رہی ہے ان کے ليے بالکل اطمينان کا باعث نہيں۔

جرمن رياست ہيسن کے جسٹس منسٹر يورگ اووے ہان نے متعلقہ کمپنيوں کے بائيکاٹ کا مطالبہ کيا ہے۔ ان کے بقول انہيں اس بات پر حيرت ہے کہ کس طرح ايسی بڑی کمپنياں اپنے صارفين کا ڈيٹا کسی اور فريق کو دے سکتی ہيں۔

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے انٹرنیٹ اور فون کے ذریعے لوگوں کی نگرانی کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے امریکا کو حملوں سے بچانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی نگرانی وفاقی جج اور کانگریس کر رہی تھی جبکہ قانون سازوں کو اس حوالے سے بریفنگ دی گئی تھی۔ سلیکیون ویلی میں جمعہ کے روز خطاب کرتے ہوئے اوباما نے لوگوں کو یقین دہانی کرائی کے ان کی پرائیویٹ کالز کوئی نہیں سن رہا۔

اوباما نے نگرانی کے عمل کو حملوں سے بچنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے

اوباما نے نگرانی کے عمل کو حملوں سے بچنے کے لیے ضروری قرار دیا ہے

امريکا ميں عام طور پر کانگريس کے اراکين صدر باراک اوباما کی پاليسيوں کے سخت ناقد مانے جاتے ہيں ليکن اس بار وہ بھی انتظاميہ کے اس اقدام کے حق ميں بيانات دے رہے ہيں۔ سينيٹرز جان مک کين اور لنڈسے گريہم جيسے اہم سياستدانوں نے حکومت کے اس پروگرام کی حمايت کی ہے۔ ان کے علاوہ سينيٹ کی انٹيلیجنس کميٹی کے چيئرمين مائيک روجرز اور سياستدان ہيری ريڈ بھی کچھ اسی قسم کے خيالات رکھتے ہيں۔ جن سينيٹرز نے اس اقدام کی مذمت کی ان ميں ڈيموکريٹس رون وائڈن، ڈک ڈربن اور برنی سينڈرز شامل ہيں۔

واضح رہے کہ امريکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور برطانوی اخبار گارڈين کی جمعرات چھ جون کو شائع کردہ رپورٹوں کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کے ممکنہ واقعات سے بچنے کے لیے فیس بُک، گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ سمیت نو اہم انٹرنیٹ کمپنیوں کے ڈیٹا کی خفیہ طور پر پڑتال کر رہی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق نیشنل سکیورٹی ایجنسی کو ’پرزم‘ نامی ايک پروگرام کے تحت ان انٹرنیٹ کمپنیوں کے سرورز تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جس سے وہ کسی بھی فرد کی انٹرنیٹ پر موجود چیزوں کی چھان بین کر سکتے ہیں۔ ان ميں سے بيشتر کمپنياں پرزم کے حصہ ہونے کی ترديد کر چکی ہيں۔

as/aba (AFP, Reuters)