انضمام کی کوششیں لیکن اساتذہ اور اسکولوں کی کمی | مہاجرین کا بحران | DW | 26.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انضمام کی کوششیں لیکن اساتذہ اور اسکولوں کی کمی

جرمن دارالحکومت برلن میں مہاجرین کا ایک گروپ ’جرمنی میں قیام‘ کے حوالے سے ترتیب دیا گیا ایک عملی امتحان دے رہ‍‍ا ہے۔ یہاں انہیں ان تمام اہم معلومات کے بارے میں آگاہی دی جاتی ہے، جو اس ملک میں روزمرہ زندگی کے لیے اہم ہیں۔

برلن کے مشرقی علاقے میں واقع ایک کلاس روم میں مہاجرین کے جرمن معاشرے میں انضمام کے لیے معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ جرمنی میں تعطیلات کب ہوتی ہیں؟ ایسٹر، کرسمس، لیبر ڈے یا کوئی اور اہم دن ۔

ان تمام دنوں کے بارے میں بھی ابتدائی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مسیحی تہوار کون سے ہیں اور اس ملک کی بنیادی اقدار کیا ہیں۔

جرمن حکومت کی کوششوں کے باوجود صوبائی حکومتوں کو مہاجرین کی ایک بڑی تعداد کے لیے ان بنیادی کورسز کے انعقاد کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے۔

گزشتہ برس جرمنی میں ایک ملین مہاجرین اور تارکین وطن پناہ کی خاطر آئے تھے۔ اس برس بھی مہاجرین کی جرمنی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کے لیے سماجی انضمام کے کورسز کا انتظام کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اگرچہ جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ نے رواں ہفتے ہی مہاجرین کے انضمام کے حوالے سے ایک اہم قانون متعارف کرایا ہے، جسے میرکل نے مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک سنگ میل بھی قرار دیا ہے تاہم انتظامی مسائل اس قانون کے مکمل اطلاق میں حائل ہو سکتے ہیں۔

اس نئے قانون کے مطابق ہر مہاجر کو چھ سو گھنٹوں کی جرمن کلاسیں لینا ہوں گی جبکہ سو گھنٹوں کے ثقافتی کورسز بھی پاس کرنا ہوں گے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان کورسز کے بعد یہ مہاجرین اور تارکین وطن جرمنی میں ملازمت تلاش کرتے ہوئے بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گے۔

تاہم یہ کام بہت آسان بھی نہیں۔ کئی تعلیمی ماہرین اور اساتذہ کا کہنا ہے کہ جرمن زبان سیکھنے کے لیے کلاسیں اور ٹیچرز کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے روئٹرز کو بتایا کہ مہاجرین کی تعداد زیادہ ہے جبکہ ان سب کو جرمن زبان سکھانے اور ثقافتی کورسز کروانے کے لیے انتظامی مسائل کا سامنا ہے۔ کئی ماہرین نے تو ان کورسز کے نصاب کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔

محمد ایک شامی مہاجر ہے، جو ان دنوں ایک ٹیکس فرم میں ملازمت کرتا ہے۔ اس اٹھائیس سالہ مہاجر نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ سن 2014 کے اواخر میں جرمنی پہنچا تھا جبکہ اسے پہلی مرتبہ اکتوبر 2015ء میں جرمن زبان سیکھنے کے لیے ایک اسکول میں داخلہ ملا تھا۔

محمد کے بقول، ’’میری خواہش تھی کہ میں جلد ہی جرمن زبان سیکھ جاتا۔ یہاں دس ماہ تک میں نے کچھ نہیں کیا۔ اگر میں اس وقت کو بھی استعمال میں لے آتا تو میری صورتحال اس وقت مزید بہتر ہوتی۔‘‘

Deutschland Dialog unter Flüchtlingen in Ostern-Broken

جرمن زبان سیکھنے کے لیے کلاسیں اور ٹیچرز کافی نہیں ہیں

جرمنی میں مہاجرت کے وفاقی دفتر BAMF کے سربراہ فرانک ژُرگن ویزے اعتراف کرتے ہیں کہ مہاجرین کے لیے سماجی انضمام کے کورسز منعقد کرانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

فرانک ژُرگن ویزے نے بتایا کہ انہیں یومیہ بنیادوں پر ڈھائی ہزار ایسی درخواستیں موصول ہو رہی ہیں، جن میں قانونی مہاجرین سماجی انضمام کے کورسز میں شرکت کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس سلسلے کو تیز کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان کورسز کی خاطر اسکولوں یا جگہوں کی کمی تو ہے ہی لیکن ساتھ میں ٹیچرز کی مناسب تعداد بھی موجود نہیں ہے۔ جرمنی میں تعلیم بالغاں کی ایسوسی ایشن DVV کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت جرمنی میں پانچ ہزار پروفیشنل لینگوئج ٹیچرز کی کمی ہے۔

جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان مہاجرین کے جرمن معاشرے میں بہتر انضمام کے لیے تمام تر رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ جلد ہی ان مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔

اشتہار