انسداد بدعنوانی کا عالمی دن، پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ | معاشرہ | DW | 09.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

انسداد بدعنوانی کا عالمی دن، پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟

دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح آج پاکستان میں بھی بدعنوانی کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں آگاہی واک، سیمیناروں اور مذاکروں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قائم قومی ادارے نیب کی طرف سے کرپشن کے خلاف ایک ملک گیر مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر Say No to Corruption پر مبنی نعروں والے بینرز اور پوسٹرز بڑی تعداد میں لگائے گئے ہیں۔ پاکستان میں عدالتی سطح پر بدعنوانی کے خلاف طویل عرصے سے جدوجہد کرنے والے ایک قانون دان اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر پاکستان میں ہونے والی روایتی سرگرمیاں محض خانہ پوری ہیں۔ اس سے معاشرے سے کرپشن کے خاتمے کی امید وابستہ نہیں کی جانی چاہیے۔‘‘

ان کے خیال میں آج کے دور کی سٹیٹ آف دی آرٹ کرپشن کے خاتمے کے لیے کہیں زیادہ سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اظہر صدیق کہتے ہیں، ’’پاکستان میں بڑے ترقیاتی منصوبے بھی میگا سکینڈلز کا روپ دھارتے جا رہے ہیں۔‘‘ ان کے الفاظ میں پنجاب کی 61 کمپنیوں اور اورنج ٹرین منصوبے کی شفافیت پر بھی سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں۔

اینٹی کرپشن ڈے ہر سال 9 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد لوگوں میں کرپشن کے تباہ کن اثرات سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس سال اس دن کے حوالے سے جاری کئی گئے پیغام میں امن، ترقی اور سلامتی کے لیے بدعنوانی کے خلاف متحد ہو جانے کی بات کی گئی ہے۔

پاکستان کالج آف لا ء کے ڈین پروفیسر ہمایوں احسان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ امن ہم آہنگی کی پیداوار ہے۔ انسانوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایمانداری ضروری ہے۔’’سماجی و اقتصادی نا انصافیاں، میرٹ کی پامالیاں سوسائٹی کو تصادم کی طرف لے جاتی ہیں۔ کرپشن سے نہ تو دیرپا ترقی ملتی ہے اور نہ ہی ایک اچھی سول سوسائٹی وجود میں آتی ہے۔ اگر ہم پاکستان کو بدعنوانی سے پاک کر لیں تو قدرتی طور پر ملک سے ٹکراؤ اور تصادم کے رجحانات میں کمی ہو گی اور امن کو تقویت ملے گی۔ اسی طرح آپ اگر پولیس کے نظام میں میرٹ پر فیصلے نہیں کریں گے تو سیکورٹی کی صورتحال ٹھیک نہیں ہو سکے گی۔"

پروفیسر ہمایوں احسان کہتے ہیں کہ کرپشن بنیادی سطح کی ایسی بیماری ہے جو کئی دوسری بیماریوں کو جنم دیتی ہے۔ ان کے خیال میں یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کی سیاسی حکومتیں کرپشن کے خاتمے میں ناکام رہی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستانی معاشرے میں ایسے احساسات پروان چڑھا دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کرپشن کے بارے میں معاشرے میں قبولیت کے جذبات پیدا ہو چکے ہیں۔ اب کہا جاتا ہے کہ ترقی کے ساتھ کرپشن لازم و ملزوم ہے۔ کرپشن کے بغیر کام ہو ہی نہیں سکتا، وغیرہ وغیرہ۔ پروفیسر ہمایوں کے بقول جب کرپشن معاشرے میں سرائیت کر جائے اور اس کے خاتمے کے ذمہ دار با اثر اور طاقتور حلقے اسی کے فروغ کا باعث بن جائیں تو پھر اس کا خاتمہ آسان نہیں ہوتا، ’’پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کے لیے انفرادی اور ادارہ جاتی سطحوں پر بڑی طویل اور موثر جدوجہد کی ضرورت ہے اور پاکستان کے ہر شہری کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔‘‘ ان کے بقول پاکستان کے پارلیمانی نظام کو بھی دوبارہ سے مرتب کرنےکی ضرورت ہے تاکہ سیاست اور  بدعنوانی کے رابطے منقطع کیے جا سکیں۔‘‘

اسحاق ڈار پر بدعنوانی کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی

پیپلز پارٹی کو زیادہ نقصان بدعنوانی کے الزامات نے پہنچایا

نیب کی طرف سے طلبی، کیا نواز شریف کی ساکھ مزید خراب ہو گی؟

 

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر ہمایوں احسان کا کہنا تھا کہ ایک بدعنوان آدمی کو سزا دینے کے لیے دوسرے کرپٹ آدمیوں کی کرپشن سے آنکھیں بند کر لینا یا این آر او کے نام پر کرپٹ لوگوں کو رعایتیں دے دینا انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائینسز میں معاشیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ممتاز تحقیقی ادارے آئیڈیاز کے سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر فیصل باری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کرپشن ایک عالمی مسئلہ ہے، ’’تمام قابل اعتبار اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں کرپشن بہت سے دیگر ملکوں کی نسبت کافی زیادہ ہے۔‘‘

وہۃ کہتے ہیں کہ کرپشن کا معاشرے میں ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے شہریوں کو منصفانہ مواقع ملنے میں رکاوٹ آ جاتی ہے۔ ایک کرپٹ معاشرے میں آپ کو پانی، بجلی یا گیس کا کنکشن لینا ہو، پولیس سے کام کروانا ہوتو صرف پیسے والے یا با اثرلوگوں کو ہی یہ سہولتیں مل سکتی ہیں لیکن غریب لوگ اور پیچھے چلے جائیں گے۔ اس سے معاشرے میں مایوسی اور بد امنی پیدا ہو سکتی ہے، ’’ہمارے معاشرے میں دولت کا ارتکاز اور وسائل کی تقسیم کافی غیر منصفانہ ہے اس لیے کرپشن کی وجہ سے سب سے زیادہ غریب لوگ ہی متاثر ہوتے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر باری کے بقول بدعنوانی میں ملوث طاقتور لوگوں کی وجہ سے ہی کرپشن کا خاتمہ مشکل بنا ہوا ہے۔

پولیس، پاکستان کا 'بدعنوان ترین' محمکہ

ملک سے بدعنوانی دور کرو: ڈاکٹر عبد القدیر خان کی مہم کا آغاز

ان کا کہنا تھا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں میں کرپشن کا خاتمہ ہو جائے تو اس سے وسائل ایمانداری سے خرچ ہوں تو زیادہ لوگوں کو زیادہ سہولتیں مل سکتی ہیں۔ زیادہ سکول اور زیادہ ہسپتال بن سکیں گے، اگر سڑک کاغذوں میں بنتی رہے گی یا پہلی بارش سے بہہ جائے گی تو اس سے وسائل کا ضیاع ہی ہوتا رہےگا اور اس سے عوام کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔

"اسی طرح اگر آپ پیسے لے کرکسی نا اہل شخص کو ڈاکٹر لگوا دیں گے تو وہ خلق خدا کے مسائل میں کس قدر اضافہ کا باعث بنے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔"

اس سوال کے جواب میں کہ کرپشن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ ڈاکٹر فیصل باری کا کہنا تھا کہ پورا نظام بدلنے کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اب یہ سمجھا جانے لگا ہے کہ کرپشن نہ کرنے والا ہی نظام میں رکارٹ ہے یا پولیس والے کی تنخواہ کم ہے تو اس کے لیے رشوت ضروری ہے، "میرے خیال میں پاکستان سے کرپشن کے خاتمے کے لیے بڑے بدمعاشوں سے کارروائی کا آغاز کرنے کی ضرورت ہے جب تک حکمران اور با اثر طبقات کی کرپشن پر ہاتھ نہ ڈالا گیا تب تک کرپشن ختم نہیں ہو سکے گی۔"

ڈاکٹر باری کے مطابق سیاسی انتقام کے لیے کرپشن کے الزامات کو استعمال کرنا بھی افسوسناک ہے۔

DW.COM

اشتہار