انسانی حقوق کے معاملے پر ترکی سے کوئی مصالحت نہیں،یورپی یونین | حالات حاضرہ | DW | 07.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

انسانی حقوق کے معاملے پر ترکی سے کوئی مصالحت نہیں،یورپی یونین

یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن کا کہنا ہے کہ اگر ترکی یورپی یونین کے ساتھ مضبوط تعلقات کا خواہش مند ہے تو اسے بنیادی انسانی حقوق کے ضابطوں کا احترام کرنا ہی ہوگا۔

یورپی یونین نے خواتین پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے خلاف کارروائی کے حوالے سے ایک قانون کو واپس لینے کے ترکی کے فیصلے پر ”سخت تشویش" کا اظہار کیا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیئر لائن نے منگل کے روز انقرہ کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے معاملات پر کسی طرح کی مصالحت نہیں کی جائے گی۔

فان ڈیئر لائن ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ مختلف امور پرتبادلہ خیال کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کر رہی تھیں۔

Türkei | Frauenrechte | Proteste in Istanbul

استنبول کنونشن کو واپس لینے کے خلاف خواتین کا مظاہرہ۔

ترکی انسانی حقوق کا احترام کرے

جرمنی کی سابق وزیر دفاع ارزولا فان ڈیئر لائن کا کہنا تھا”بنیادی حقوق کے تئیں احترام اور قانون کی حکمرانی یورپی یونین کے لیے سب سے اہم ہیں۔ یہ ہمارے تعلقات کا اٹوٹ حصہ ہونا چاہیں۔ ترکی کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی میعارات کا احترام کرنا چاہیے۔"

ترک صدر ایردوآن نے استنبول کنونشن کو واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس قانون کا تعلق خواتین کے ساتھ گھریلو تشدد کے واقعات کے خلاف قانونی کارروائی سے ہے۔

یورپی کمیشن کی سربراہ کا کہنا تھا کہ ایردوآن کے اس قدم سے”واضح طورپر ایک غلط اشارہ جائے گا۔"

Griechenland Ankunft Syrische Flüchtlinge

'' ریفیوجی ڈیل" میں طرفین نے غیر قانونی طور پر ترکی کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے والے مہاجرین کو روکنے کے لیے ممکنہ کوشش پر اتفاق کیا تھا۔

ریفیوجی ڈیل برقرار رہے

یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل کے ساتھ ترکی کے دورے پر جانے والی فان ڈیئر لائن نے کہا کہ ہم دونوں نے ترکی حکومت سے سن 2016 کے ریفیوجی معاہدے پر قائم رہنے کے لیے بھی کہا۔

یورپی یونین کے ممالک اور ترکی کے مابین پانچ سال قبل یعنی 2016 ء میں ایک معاہدہ طے پا یا تھا۔ اس معاہدے کو '' ریفیوجی ڈیل" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس میں طرفین نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ غیر قانونی طور پر ترکی کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے والے مہاجرین کو اس عمل سے روکنے کے لیے ممکنہ کوششیں کی جائیں گی۔

فان ڈیئر لائن نے کہا”ہمیں امید ہے کہ ترکی اپنے عہد پر قائم رہے گا اور اپنے وعدوں کو پورا کرے گا۔"

ترکی اس وقت تقریباً ایک کروڑ شامی پناہ گزینوں کی کفالت کر رہا ہے۔ ترک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے انہیں مزید مالی امداد کی ضرورت ہے۔

ایردوآن نے گزشتہ ماہ برسلز میں یورپی یونین کے ان دونوں رہنماوں سے ملاقات کی تھی اور یورپی یونین اور ترکی کے درمیان سن 2016 کے 'ریفیوجی ڈیل‘ کوبرقرار رکھنے کا اعادہ کیا تھا۔

 ج ا/ ص ز (اے ایف پی، ای ایف ای)

ویڈیو دیکھیے 06:32

تشدد، مشکلات اور رکاوٹیں، پاکستانی مہاجر کیا کچھ جھیل رہے ہیں

DW.COM