انسانی اسمگلنگ کے خلاف لیبیا اور یورپ متحرک | مہاجرین کا بحران | DW | 27.08.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

انسانی اسمگلنگ کے خلاف لیبیا اور یورپ متحرک

چند یورپی ممالک کو غیرقانونی تارکین وطن کی مسلسل آمد کا سامنا ہے۔ انہیں یورپی ملکوں تک پہنچانے والے اسمگلروں کے خلاف یورپی ممالک نے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

اٹلی کے وزیر داخلہ مارکو مِنیٹی نے لیبیا کے مختلف شہروں کے میئروں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ مارکو مِننیٹی ہفتہ چھبیس اگست کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پہنچے تھے۔ اُن کی آمد کا مقصد انسانی اسمگلنگ کی پرزور انداز میں حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ ان اسمگلروں کے خلاف رواں برس کے اوائل میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک مفاہمت پر دستخط ہو چکے ہیں اور اب اٹلی اُس کو عملی صورت دینے کی کوشش میں ہے۔

اٹلی میں ہزاروں تارکینِ وطن کا مظاہرہ

'یورپی یونین کی پالیسیوں نے مہاجرین کے لیے خطرات بڑھا دیے‘

اٹلی کی جانب مہاجرت کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ

تارکین وطن چند سو ڈالر میں ’غلاموں کی طرح‘ بکتے ہوئے

یہ امر اہم ہے کہ اٹلی میں اگلے برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کا سب سے اہم موضوع تارکین وطن  ہے۔ موجودہ حکومت الیکشن سے قبل ایسے مثبت اقدامات کرنے کی کوشش میں ہے کہ جو عوام کواُن کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب راغب کر سکیں۔ دوسری صورت میں دائیں بازو کی جماعتیں انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔

چند لیبیائی شہروں کے میئروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اقوام متحدہ کی یونٹی حکومت کے وزیر داخلہ العارف الخوجہ بھی شریک تھے۔ اس میٹنگ میں شمالی افریقی ملک کے چند شہروں میں ڈیرے ڈالے ہوئے انسانی اسمگلروں اور اُن کی کارروائیوں کو پوری طرح کنٹرول کی ضرورت کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ اطالوی وزیر داخلہ کا خیال ہے کہ لیبیا میں فعال انسانی اسمگلروں میں بعض منظم جرائم پیشہ گروہ ہیں، جو اس گھناؤنے عمل کو کاروبار بنائے ہوئے ہیں۔

Marco Minniti (picture alliance/AA/R.De Luca)

اٹلی کے وزیر خارجہ مارکو مِنیٹی

اس میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے اطالوی وزیر داخلہ نے کہا کہ لیبیا اور اِس کے قریبی ہمسایہ افریقی ملکوں کے نوجوانوں کو امید افزاء مستقبل کی ضرورت ہے اور وہ اپنی زندگیوں کو جرائم پیشہ تنظیموں کے حوالے مت کریں۔ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے سلسلے میں لیبیا کے کوسٹ گارڈز کی تربیت کا سلسلہ بھی جاری ہے تا کہ وہ بھی سمندر میں فعال ہو کر انسانوں کو موت کے راستے پر روانہ ہونے سے بچا سکیں۔

لیبیا کی مختلف ساحلی پٹیاں اس وقت انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ غیر معروف اور انتہائی کم استعمال ہونے والے ساحلی مقامات سے انسانی اسمگلر افریقی ممالک کے تارکین وطن کو ناکارہ اور پلاسٹک کی کشتیوں پر سوار کر کے اٹلی، یونان اور اسپین کے ساحلی مقامات اور جزائر تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

DW.COM