’امیریکن ڈریم‘ لاطینی امریکیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب | مہاجرین کا بحران | DW | 06.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’امیریکن ڈریم‘ لاطینی امریکیوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب

بہت سے لاطینی امریکیوں کی نظر میں ’امیریکن ڈریم‘ سے مراد امریکا کی جانب سفر کر کے ایک نئے، محفوظ اور بہتر مستقبل کا آغاز ہے، مگر یہ سفر کبھی کبھی نہایت بھیانک روپ اختیار کر لیتا ہے۔

36 سالہ اولگا لوپیز کا تعلق ہنڈوراس سے ہے۔ لوپیز کا یہ سہانا سپنا کس طرح ایک ناقابل فراموش ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہوا، جب وہ اپنی دس سالہ بیٹی کے ساتھ میکسیکو کے قریبی سمندر میں ڈوبتے ڈوبتے بچیں، مگر اپنی بیٹی کو نہ بچا سکیں۔

اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے لوپیز نے بتایا کہ وہ دیگر آٹھ مہاجرین کے ساتھ ایک کشتی پر بغیر سفری دستاویزات کے امریکا کی جانب سفر کر رہی تھیں۔ اس کشتی میں سوار افراد میں چار بالغ اور چار بچے شامل تھے۔ ’’ہم 20 جولائی کو میکسیکو کی جنوبی ریاست سے بحرالکاہل پر واقع ایک ساحل چیاپاس سے ایک کشتی پر روانہ ہوئے تھے۔ ہمارا سفر صبح چھ بجے شروع ہوا۔ مگر ابھی چلے ہی تھے کہ ایک بڑی لہر آئی اور کشتی ایک جانب کو غوطہ کھا گئی۔ کسی کو ایک لمحہ تک نہ ملا کہ کوئی تدبیر کرتا اور میں پانی میں جا گری۔‘‘

لوپیز پانی میں اندر تک جانے کے بعد جب سطح پر نمودار ہوئیں، تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی دس سالہ بیٹی جینیفر کشتی پر ہی تھی۔ لوپیز چیخی، ’’ادھر ادھر مت ہلنا۔ جنیفر کہنی لگی، ممی میں یہیں ہوں۔ میں نے دیکھا باقی لوگ بھی ٹھیک ہیں، مسکرا رہے ہیں۔ مگر پھر ایک اور لہر آئی اور پھر مجھے جنیفر کبھی دکھائی نہیں دی۔‘‘

Migration Südamerika Mexiko

وسطی امریکا سے ہزاروں افراد شمالی امریکا کا رخ کرتے ہیں

جنیفر اس سفر میں ان دیگر تین بچوں میں سے ایک تھی، جو سمندر میں غرق ہو گئے۔ گزشتہ ہفتے ہی ان بچوں کی باقیات ان کے آبائی ممالک کو سونپی گئی ہیں۔ جنیفر کی لاش بھی ہنڈوراس کے شمال مغربی گاؤں سان کارلوس پہنچائی گئی ہے۔

وسطی امریکی افراد کی یہ تعداد کم نہیں جو عموماﹰ امریکا پہنچنے کے لیے یہ انتہائی خطرناک راستہ اختیار کرتے ہیں۔ رواں برس اب تک ہنڈوراس سے تعلق رکھنے والے 106 افراد نے اپنی زندگیاں ’امیریکن ڈریم‘ کی نذر کر دیں۔ گزشتہ برس یہ تعداد 200 تھی۔

وسطی امریکا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کے علاوہ اسی راستے سے پاکستانی اور افغان شہری بھی امریکا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ افراد وسطی امریکا سے میکسیکو اور پھر سرحد عبور کر کے امریکا میں داخل ہونے کا یہ خطرناک سفر اختیار کرتے ہیں۔ ہنڈوراس کی حکومتی کمیٹی برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ ملک میں بے روز گاری اور تشدد کی وجہ سے ہر سال ساٹھ ہزار سے ایک لاکھ افراد اسی راستے سے امریکا پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ امریکا پہنچ جاتے ہیں، جب کہ باقی قریبی ممالک میں پہنچ کر اپنی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔