امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ طالبان کا نئے حملوں کا اعلان | حالات حاضرہ | DW | 12.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ طالبان کا نئے حملوں کا اعلان

افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی نئے حملوں کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب امریکا اور افغان حکومت طالبان عسکریت پسندوں کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

طالبان نے اپنے ان آئندہ حملوں کو ’آپریشن فتح‘ کا نام دیا ہے۔ اعلان میں واضح کیا گیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ملک پر غیر ملکی افواج کے قبضے کا خاتمہ ہے۔ طالبان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ ان کا ’جہاد‘ بھی جاری رہے گا کیونکہ ابھی افغانستان کے ایک وسیع حصے پر غیر ملکی دستے قابض ہیں۔اس اعلان میں علاماتی طور پر یہ واضح کیا گیا ہےکہ حالیہ سردیوں میں طالبان مستقل طور پر افغان اور امریکی فوسزکے ساتھ حالت جنگ میں رہا۔

طالبان کی جانب سے واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ،’’ہم پر جہادی ہونے کے ناطے جو ذمہ داریاں عائد ہیں، وہ ابھی ختم نہیں ہوئیں۔گو کہ اس جدوجہد سے ہم اپنی سر زمین کا ایک بڑا حصہ دشمن سے آزاد کرا چکے ہیں۔لیکن ابھی بھی بیرونی طاقتوں نے ہماری اسلامی ریاست کو گھیرا ہوا ہے۔‘‘

 افغان وزارت دفاع کے ترجمان قیس منگل نے طالبان کے آپریشن فتح کو ایک پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ منگل کے مطابق طالبان اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوں گے اور ماضی میں بھی جس طرح تواتر کے ساتھ طالبان کو افغان فورسز  کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑے ہے، ویسا ہی مستقبل میں بھی ہو گا۔

افغان صدر اشرف غنی کی انتظامیہ نے  بھی حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ طالبان کے خلاف ’آپریشن خالد‘ کا آغاز کرنے والے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان کا اعلان کابل حکومت کے عسکری آپریشن کے جواب میں ہے۔

کابل میں مقیم دفاعی تجزیہ کار عتیق اللہ امرخیل کے مطابق  طالبان حقیقت میں افغان فورسز پر اوپری ہاتھ رکھنا چاہتے ہیں۔ جوں جوں مذاکرات کی بات بڑھ رہی ہے، وہ تشدد کی بات کرتے ہیں۔ امرخیل کے مطابق ان آپریشنز کا مقصد صرف حکومت کو چیلنج کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کی صورت حال سن 2019 میں بہت سنگین ہو سکتی ہے۔

DW.COM