امریکی گرین کارڈ کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا گیا | حالات حاضرہ | DW | 13.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی گرین کارڈ کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا گیا

ٹرمپ انتظامیہ نے ملکی امیگریشن قوانین مزید سخت بناتے ہوئے قانونی طور پر امریکا پہنچنے والے تارکین وطن کے لیے بھی گرین کارڈ کا حصول انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

امریکی امیگریشن قوانین پہلے ہی قانونی طور پر امریکا آنے والے تارکین وطن کو مستقل شہریت یا پھر گرین کارڈ حاصل کرنے کے لیے ان کے معاشی طور پر خود کفیل ہونے کے متقاضی تھے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے ان قوانین میں مزید سختی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے ضوابط کے تحت اب امریکا میں مستقل سکونت کے خواہش مند اگر ’میڈیک ایڈ‘، ’فوڈ اسٹیمپس‘ یا ’ہاؤسنگ ووچر‘ سمیت دیگر منصوبوں کے ذریعے سماجی امداد حاصل کریں گے، تو ایسے تارکین وطن کو امریکی گرین کارڈ نہیں ملے گا۔
امیگریشن سے متعلق نئے امریکی وفاقی قوانین کا اعلان پیر بارہ اگست کے روز کیا گیا اور ان کا اطلاق رواں برس اکتوبر کے مہینے سے کر دیا جائے گا۔ 
ٹرمپ انتظامیہ سیاسی پناہ کی تلاش میں امریکا کا رخ کرنے والے افراد کے لیے پہلے ہی سخت ترین قوانین متعارف کرا چکی ہے۔ قانونی طور پر امریکا پہنچنے والے افراد کے لیے متعارف کرائے گئے تازہ ضوابط ٹرمپ انتظامیہ کی امریکی امیگریشن قوانین مزید سخت کر دینے کی وسیع تر پالیسی ہی کا ایک حصہ ہیں۔ 
ان قوانین کے حوالے سے صدر ٹرمپ پر شدید تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ نیا امیگریشن سسٹم امریکی اقدار سے متصادم نہیں ہے۔
شہریت اور مہاجرت سے متعلق امریکی ادارے کے سربراہ کین کوشینیلے کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ تارکین وطن کو اپنے ہاں قبول کرنے کی امریکی روایت کے منافی اقدامات نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق نئے ضوابط اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ امریکا میں مستقل رہائش کے خواہش مند افراد معاشی طور پر خود کفیل ہوں اور سماجی مراعات پر انحصار نہ کریں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے نئے امریکی امیگریشن ضوابط پر شدید اعتراض کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے باعث قانونی طور پر امریکا میں رہنے والے تارکین وطن خوف کا شکار ہو جائیں گے۔ ایسے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ گرین کارڈ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد اشد ضرورت کے وقت بھی اپنی صحت یا رہائش کے حوالے سے حکومتی اداروں سے مدد مانگنے سے گریز ہی کریں گے اور اس سے ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ش ح / م م (ڈی پی اے، اے پی)

DW.COM