امریکی کمپنی میں نماز کے لیے بار بار وقفے لینے پر سات ملازمین فارغ | معاشرہ | DW | 14.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی کمپنی میں نماز کے لیے بار بار وقفے لینے پر سات ملازمین فارغ

امریکی ریاست وِسکونسن میں واقع ایک مینوفیکچرنگ کمپنی میں سات ملازمین کو نماز کے لیے وقفے لینے پر نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔ کمپنی کے مطابق وقفے کے لیے مخصوص اوقات مقرر تھے۔

نوکری سے نکالے جانے والے افراد کمپنی میں کام کرنے والے تریپن صومالی مسلمانوں میں سے تھے۔ یہ واقعہ گزشتہ ماہ پیش آیا، جس کی تصدیق کمپنی نے حال ہی میں کی۔

ایریئنز کمپنی بریلین شہر میں اوزار اور دیگر مصنوعات تیار کرتی ہے۔ کمپنی کے ضوابط کے مطابق مسلمان ملازمین کو دن میں دس منٹ کا وقفہ نماز پڑھنے کے لیے دیا گیا تھا، تاہم نوکری سے برخاست کیے جانے والے اہل کار نماز کے لیے متعدد وقفے لے رہے تھے۔

سات ملازمین کو نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے جب کہ چودہ نے واک آؤٹ کر دیا تھا۔ بتیس مسلمان ملازمین کام پر واپس آ چکے ہیں اور کمپنی کے ضوابط کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مسلمانوں پر شرعی اعتبار سے دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھنے کی پابندی ہے۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا: ’’ہم چاہتے تھے کہ زیادہ تر مسلمان ملازمین کام پر لوٹ آتے، تاہم ہم ان کے عقیدے کا احترام کرتے ہیں۔ ہم ان کے فیصلے کی عزت کرتے ہیں، اور اس کام کی بھی جو انہوں نے کمپنی کے لیے کیا ہے۔‘‘

نوکری سے فارغ کیے جانے والے ملازمین کونسل آف امیریکن اسلامک ریلیشنز نامی تنظیم کے ساتھ رابطے میں ہیں اور اپنے اگلے اقدام کا تعین کر رہے ہیں، جس میں کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنا بھی شامل ہے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر جیلانی حسین کا اس بارے میں کہنا ہے، ’’یہ بالکل اچانک ہوا اور کمپنی کسی تجویز پر غوزر کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ تجاویز وقفوں کو نماز کے اوقات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے دی گئی ہیں۔‘‘

دنیا بھر میں ایریئنز کے ڈیڑھ ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔ بریلین میں کمپنی نے اپنے دفتر میں مسلمانوں کے لیے ایک جائے عبادت بھی بنا رکھی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پے در پے وقفوں سے کمپنی کے کام پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

اشتہار