امریکی وزیر خارجہ کا دورہ مشرقِ وسطی | حالات حاضرہ | DW | 25.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

  امریکی وزیر خارجہ کا دورہ مشرقِ وسطی

اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی کے بعد امریکی وزیر خارجہ تین روزہ دورے پر پہلی بارمشرق وسطی پہنچے ہیں جہاں وہ کئی اہم رہنماؤں سے صلاح و مشورہ کریں گے۔

اسرائیل اور غزہ کے درمیان گزشتہ ہفتے جنگ بندی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کا یہ پہلا اہم دورہ ہے۔ اس دورے میں وہ اسرائیل، مغربی کنارہ، رملہ، مصر اور عمان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اس دوران وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس، مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کریں گے۔

لیکن ان کی سب سے اہم ملاقاتیں اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ ہیں جہاں گیارہ دن کی زبردست لڑائی کے بعد چند روز قبل ہی جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے۔ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں تقریباً ڈھائی سو فلسطینی ہلاک ہوئے جس میں درجنوں بچے اور خواتین شامل ہیں۔

اسرائیل کی سلامتی کے تئیں امریکی عزم 

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی وزیر خارجہ، ''اسرائیل کی سلامتی کے تئیں ہمارے آہنی عزم پر بات چیت کے لیے اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ وہ فلسطینی عوام اور رہنماؤں سے تعلقات کی بحالی اور ان کی حمایت کے لیے ہماری انتظامیہ کی کوششوں کو بھی جاری رکھیں گے، جسے برسوں سے نظر انداز کیا گیا ہے۔'' 

  امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ ''غزہ کو اس انداز سے فوری امداد پہنچانے کے مقصد سے عالمی رہنماؤں سے بات چیت کرنے والے ہیں کہ امداد عوام تک پہنچے اور حماس کو اس سے محروم ر کھا جا سکے تاکہ مستقبل قریب میں پھر سے کوئی ایسا تنازعہ نہ شروع ہو پائے۔''

 امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے ٹویٹر پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا، ''امریکا اس وقت دشمنی کو ختم کرنے اور تناؤ کو کم کرنے کے لیے گہری سفارت کاری میں مصروف ہے۔''

ساٹھ سے زیادہ بچوں کی ہلاکت

مصر کے وزیر خارجہ کی کوششوں سے ہی حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو سکا تھا اور مصر کی جانب سے یہ کوشش بھی جاری ہے کہ یہ جنگ بندی اور امن قائم رہے۔ 

ویڈیو دیکھیے 03:28

معذوری کے باوجود ہمت نہ ہارنے والا یوسف

غزہ میں وزارت صحت کے ایک بیان کے مطابق اسرائیل کی فضائی بمباری میں کم سے کم 248 فلسطینی ہلاک ہوئے جس میں 66 بچے اور تین درجن سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔ ان حملوں میں دو ہزار سے بھی زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس کے برعکس حماس کے راکٹ حملوں میں اسرائیل میں صرف 12 افراد ہلاک ہوئے جس میں ایک بچہ، ایک اسرائیلی عرب نوجوان، ایک اسرائیلی فوجی، ایک بھارتی خاتون اور تھائی لینڈ کے دو شہری شامل ہیں۔ اسرائیل میں تقریباً 357 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اسرائیل اور غزہ کے درمیان گزشتہ جمعے کے روز جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ 

ص ز / ج ا  (اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے، روئٹرز) 

ویڈیو دیکھیے 01:38

’چاچا زکی‘، غزہ کے عمر رسیدہ حجام

DW.COM