امریکی نوجوانوں میں موٹاپا، وزارت دفاع پریشان | معاشرہ | DW | 13.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

امریکی نوجوانوں میں موٹاپا، وزارت دفاع پریشان

امریکی وزارت دفاع کو نیشنل سکیورٹی کے ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے اور وہ ہے نوجوانوں میں پایا جانے والا موٹاپا۔ پینٹاگون کو اس اہم مسئلے کے ساتھ نمٹنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی وزارت دفاع کو روس اور چین کی جانب سے انتہائی ہائی ٹیک عسکری چیلنجز کا یقینی طور پر سامنا ہے لیکن اُس سے بھی بڑا چیلنج امریکا کے اندر تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہ امریکی نوجوانوں کا زائد الوزن ہونا ہے۔ اس باعث نئے فوجیوں کی بھرتی میں مشکلات پیدا ہو چکی ہیں۔

اس مناسبت سے ایک نئی ریسرچ کے اعداد و شمار اسی ہفتے کے دوران سامنے آئے اور ان کے مطابق امریکا کے نو عمر امریکیوں کی ایک تہائی تعداد موٹاپے کا شکار ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے مطابق سترہ سے چوبیس برس کے ستر فیصد سے زائد امریکی نوجوانوں فوج میں بھرتی کی بنیادی ضروریات پر پورا نہیں اترتے۔

امریکی ریاستوں کی کونسل کے مطابق امریکا کو جس سب سے شدید چیلنج کا سامنا ہے، وہ نیشنل ہیلتھ ہے۔ کونسل کے مطابق امریکی نوجوانوں میں موٹاپا ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے اور یہ انتہائی تشویش کا باعث ہے کیونکہ امریکی سلامتی کو بھی اس وبا سے ناقابل بیان خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

Fort Hood USA Schießerei Texas 2.4.14 Mark Milley (Reuters)

سن 2018 میں امریکی فوجی بھرتی کا ٹارگٹ 76 ہزار پانچ سو تھا اور ساڑھے چھ ہزار کی کمی ابھی بھی ہے

سن 2018 میں امریکی وزارت دفاع کا فوجی بھرتی کا ٹارگٹ چھہتر ہزار پانچ سو تھا اور اس میں ساڑھے چھ ہزار کی کمی ابھی بھی ہے۔ سن 2005 کے بعد امریکی وزارت دفاع کو نئے فوجیوں کی بھرتی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس میں امریکی اقتصادیات میں زوردار افزائش اور بہتر روزگار کی صورت حال کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تازہ ریسرچ میں امریکی حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں صحت مند رجحان کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ اسی طرح نوجوانوں میں موٹاپے کی پھیلتی وبا کو قابو کیا جا سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس میں مزید پہلو تہی امریکی قومی سلامتی کے لیے شدید مشکلات کا باعث ہو گی۔ اس رپورٹ کو ’غیر صحمت مند اور عدم تیاری‘ کا نام دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس بھی اس تناظر میں اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اٹھارہ سے چوبیس برس کی عمر کے اکہتر فیصد نوجوان فوج میں شمولیت کے قابل نہیں ہیں جو ملکی سلامتی کی مخدوش تصویر ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کو اہم قرار دیا ہے۔

DW.COM