امریکی میزائل نصب ہوئے تو یورپ اور امریکا روس کے نشانے پر، پوٹن | حالات حاضرہ | DW | 20.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی میزائل نصب ہوئے تو یورپ اور امریکا روس کے نشانے پر، پوٹن

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے اپنے اتحادی یورپی ممالک میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے کوئی جوہری میزائل نصب کیے تو ان یورپی ممالک کے علاوہ خود امریکا بھی جواباﹰ روسی میزائلوں کے نشانے پر ہو گا۔

روسی صدر پوٹن ملکی پارلیمان سے اپنا سالانہ خطاب کرتے ہوئے

روسی صدر پوٹن ملکی پارلیمان سے اپنا سالانہ خطاب کرتے ہوئے

روسی دارالحکومت ماسکو سے بدھ بیس فروری کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق صدر ولادیمیر پوٹن نے یہ بات آج ملکی پارلیمان سے اپنے سالانہ خطاب میں کہی۔ صدر پوٹن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو کسی بھی یورپی ریاست میں اپنے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری میزائلوں کی نئے سرے سے تنصیب سے باز رہنا چاہیے۔

ساتھ ہی صدر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ روس کسی کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا اور اسی لیے اپنے جوہری میزائلوں کی نئے سرے سے تنصیب میں بھی پہل نہیں کرے گا۔

ولادیمیر پوٹن نے یہ بات اس پس منظر میں کہی کہ امریکا نے ابھی حال ہی میں سرد جنگ کے زمانے میں سابق سوویت یونین (موجودہ روس کی پیش رو ریاست) کے ساتھ طے پانے والے ایسے جوہری ہتھیاروں سے متعلق دوطرفہ معاہدے سے اپنے اخراج کا اعلان کر دیا تھا۔

یہ معاہدہ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) ٹریٹی کہلاتا ہے اور صدر ٹرمپ کی طرف سے امریکا کے اس معاہدے سے آئندہ چھ مہینوں کے دوران مکمل اخراج کے حالیہ اعلان کے بعد ماسکو بھی اپنے طور پر اس معاہدے اور اس پر عمل درآمد کو معطل کر چکا ہے۔ اس روسی امریکی معاہدے کے بارے میں واشنگٹن اور ماسکو کے مابین اختلافات اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ ان دونوں ممالک نے ہی ایک دوسرے پر اس سمجھوتے کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگانا شروع کر دیے تھے۔

Russland Atomwaffen

یورپ اور امریکا بھی جواباﹰ روسی جوہری ہتھیاروں کے نشانے پر ہوں گے، صدر پوٹن کی تنبیہ

’امریکی پالیسی ساز کوئی غلطی نہ کریں‘

اس تناظر میں روسی صدر نے ملکی پارلیمان کے ارکان سے اپنے سالانہ خطاب میں یہ بھی کہا کہ ماسکو اور واشنگٹن کے مابین درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کے معاملے میں امریکی پالیسی ساز اداروں اور ان کے ماہرین کو کوئی غلطی نہیں کرنا چاہیے۔

ولادیمیر پوٹن کے الفاظ میں، ’’امریکی پالیسی ساز حکام کو کوئی بھی قدم اٹھاتے ہوئے اس بات کا درست اندازہ بھی لگانا چاہیے کہ ایسے کسی اقدام کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات کیسے اور کتنے شدید ہوں گے۔  اس لیے کہ یورپ میں جوہری ہتھیاروں کی ایسی کسی نئی امریکی تنصیب پر روسی ردعمل بہت واضح اور غیر متزلزل ہو گا۔‘‘

روسی صدر کا ملکی پارلیمان سے یہ خطاب ان کا ’اسٹیٹ آف دا یونین‘ خطاب تھا، جس میں انہوں نے روس کے بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات اور عسکری نوعیت کے اہم موضوعات پر اظہار رائے کرنے کے ساتھ ساتھ کئی اہم داخلی سماجی موضوعات پر بھی کھل کر بات کی۔

انیس ملین روسی شہری خطِ غربت سے نیچے

صدر پوٹن نے یہ وعدہ بھی کیا کہ ماسکو حکومت عوام کے لیے سماجی فلاحی شعبے میں مالی امداد میں اضافہ کرے گی، ملکی تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جائے گا، صحت کے شعبے پر بھی مزید توجہ دی جائے گی اور اندرون ملک غربت کے خلاف جنگ کو بھی مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

روس کی مجموعی آبادی اس وقت قریب 147 ملین ہے، جس میں سے 19 ملین شہری سرکاری سطح پر طے کردہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ روس میں ہر اس شہری کو غربت کا شکار سمجھا جاتا ہے، جس کی انفرادی ماہانہ اوسط آمدنی تقریباﹰ 160 امریکی ڈالر سے کم کے برابر ہو۔

م م / ع ح / روئٹرز

DW.COM