امریکی فوجی ایک بار پھر سعودی سر زمین پر | حالات حاضرہ | DW | 21.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی فوجی ایک بار پھر سعودی سر زمین پر

امریکا اپنی فوج سعودی عرب بھیج رہا ہے، جس سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ عراق میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب میں امریکی فوج پہلی بار تعینات ہو رہی ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کے خطرات کے پس منظر میں ریاض حکومت اور امریکی سنٹرل کمانڈ (CENTCOM) کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات سے سعودی عرب میں امریکی فوجیوں کی تعینات کی تصدیق ہو گئی ہے۔

سعودی وزارت دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ''سعودی عرب اور امریکا کے درمیان باہمی تعاون، اور فریقین کی طرف سے علاقائی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کی خواہش کے بنیاد پر ... شاہ سلمان نے امریکی فورسز کی میزبانی کی اجازت دے دی ہے۔‘‘

امریکی سنٹرل کمانڈ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی فوجیوں کی تعیناتی ''علاقے میں بڑھتے ہوئے اور حقیقی خطرات کے تناظر میں ہماری فورسز کے تحفظ کی صلاحیت کو یقینی بنانے میں اضافی صلاحیت فراہم کرے گی۔‘‘

Saudi-Arabien US-Konsulat in Jeddah

عراق میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سعودی عرب میں امریکی فوج پہلی بار تعینات ہو رہی ہے۔

ریاض اور واشنگٹن کی طرف سے تاہم سعودی عرب میں تعینات کیے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔ تاہم بعض امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کم از کم 500 امریکی فوجیوں کو ریاض کے مضافات میں واقع پرنس سلطان ملٹری ایئر بیس پر تعینات کیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران اور عالمی برادری کے درمیان سال 2015ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے الگ ہونے اور تہران حکومت کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

خطے میں بڑھتا ہوا تناؤ

جمعہ 19 جولائی کو ایرانی انقلابی گارڈز نے آبنائے ہرمز میں برطانوی پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو روک لیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بحری جہاز کو بھی کچھ وقت تک روکنے کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی۔ آبنائے ہرمز میں سے دنیا کے تیل کی سپلائی کا ایک تہائی حصہ گزرتا ہے۔

ایران کی یہ کارروائی برطانوی بحریہ کی طرف سے جبرالٹر کے علاقے میں ایرانی آئل ٹینکر کو روکے جانے کے ردعمل میں سامنے آئی ہے۔ گریس ون نامی یہ آئل ٹینکر چار جولائی سے جبرالٹر کے ساحل کے قریب لنگر انداز ہے۔ برطانیہ کا موقف ہے کہ یہ بحری جہاز شام کے لیے خام تیل لے کر جا رہا تھا اس لیے اسے روکا گیا۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ اس آئل ٹینکر کو روکنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ کہ اقدام امریکا کی ہدایت پر کیا گیا۔

Saudi-Arabien König Salman

سعودی وزارت دفاع کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شاہ سلمان نے امریکی فورسز کی میزبانی کی اجازت دے دی ہے۔

تہران حکومت نے برطانیہ کو کئی بار یہ انتباہ بھی کیا کہ اگر گریس ون کو نہ چھوڑا گیا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

جمعرات 18 جولائی کو امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک ایرانی ڈرون طیارہ مار گرایا ہے تاہم تہران حکومت نے اس کی تردید کی تھی۔ خیال رہے کہ ایران ایک امریکی ڈرون طیارہ گِرا چکا ہے۔

امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ کینتھ میکنزی نے سعودی عرب کی پرنس سلطان ایئربیس کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ امریکا خلیج فارس میں بحری سفر کی سکیورٹی کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔

 

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ش ح (شامل شمس)

DW.COM