امریکی سینیٹ سعودی عرب کی فوجی امداد کے خاتمے کی خواہش مند | حالات حاضرہ | DW | 14.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی سینیٹ سعودی عرب کی فوجی امداد کے خاتمے کی خواہش مند

امریکی سینیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کے ساتھ جاری تعاون ختم کر دیا جائے۔ تاہم صدر ٹرمپ سینیٹرز اور ایوان نمائندگان کے ایسے کسی بھی فیصلے کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ارکان کی طرف سے مشترکہ طور پر حمایت کردہ ایک قرارداد کے مطابق امریکا اب ریاض حکومت کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کی متنازعہ فوجی حمایت ختم کر دینا چاہتا ہے۔ اس قرارداد کی چون ارکان سینیٹ نے حمایت کی، جن میں سے سات اراکین کا تعلق صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی سے ہے۔ چھیالیس سینیٹرز نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ امریکی ایوان نمائندگان میں اس قرارداد کی منظوری ابھی باقی ہے۔ تاہم سینیٹرز اور ایوان نمائندگان کی منظوری کے باوجود  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس قرارداد کو ویٹو کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

شہریوں کی حفاظت

اس ملک میں گزشتہ چار برسوں سے زائد عرصے سے حوثی باغی بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ یمنی حکومت کے خلاف لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یمنی حکومت کو سعودی عرب کے عسکری اتحاد کی حمایت بھی حاصل ہے، جو وہاں پر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ریاض کی سُنی حکومت حوثی باغیوں کے پیچھے اپنے روایتی حریف ایران کا ہاتھ دیکھتی ہے۔ لیکن سعودی عرب کے عسکری اتحاد پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے فضائی حملوں کے دوران عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی نہیں بناتی۔

امریکا سعودی عسکری اتحاد کو خفیہ معلومات کے ساتھ ساتھ ان ٹھکانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے، جہاں بعد میں فضائی حملے کیے جاتے ہیں۔ امریکی سینیٹ نے گزشتہ دسمبر میں بھی یمن میں سعودی حکومت کو فوجی امداد فراہم کرنے کی مخالفت کی تھی۔ تاہم اس وقت ایوان نمائندگان کی ووٹنگ سے پہلے ہی اس قرارداد کی مدتِ منظوری ختم ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اب دوسری ایسی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

خاشقجی قتل کے اثرات

اس قرارداد کی ایک وجہ سعودی عرب کے ساتھ واشنگٹن انتظامیہ کا متنازعہ رویہ بھی ہے۔ ترکی میں سعودی قونصلیٹ کے اندر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے  صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے متعدد اراکین واشنگٹن انتظامیہ کے طرز عمل سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس قتل میں ملوث ہونے کا الزام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر بھی عائد کیا جاتا ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاملے میں سعودی ولی عہد کا کُھل کر ساتھ دیا ہے، جس کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ کو اپنی ہی صفوں میں سے تنقید کا سامنا ہے۔

ا ا / ک م (ڈی پی اے، اے پی، اے ایف پی)

DW.COM