امریکی سپریم کورٹ نے سفری پابندیوں کے حکم نامے پر عمل درآمد کی اجازت دے دی | حالات حاضرہ | DW | 05.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی سپریم کورٹ نے سفری پابندیوں کے حکم نامے پر عمل درآمد کی اجازت دے دی

امریکی سپریم کورٹ نے پیر کے روز ٹرمپ انتظامیہ کو چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکی میں داخلے سے متعلق حکم نامے پر فوری اور مکمل عمل درآمد کی اجازت دے دی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کا انتظامی حکم نامہ جاری کیا تھا، تاہم اسے متعدد نچلی  عدالتوں کی جانب سے کالعدم قرار دے دیا گیا تھا۔  اس بابت بعد میں صدر ٹرمپ نے نظرثانی شدہ حکم جاری کیا تھا، جس پر سپریم کورٹ نے عبوری عمل درآمد کی اجازت دی تھی، تاہم پیر کے روز امریکی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس حکم نامے کے خلاف دائر اپیلوں کے فیصلے تک اس پر مکمل اور فوری عمل درآمد کیا جا سکتا ہے۔

’ویزا لاٹری جیت کر بھی امریکا نہیں پہنچ سکتے‘

ٹرمپ کی سفری پابندیاں نافذ ہو گئیں

امریکی سفری پابندیوں سے دہشت گردی اور بڑھے گی، ایرانی تنبیہ

ستمبر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ نظرثانی شدہ تیسرے ورژن کو رِچمونڈ، ورجینیا اور سان فرانسسکو کی عدالتوں میں چیلنج کیا گیا تھا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے میں خصوصاﹰ مسلمانوں کو ہدف بنایا گیا ہے، جو امریکی آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ملکی سلامتی سے متعلق حکومتی دعووں کی بابت بھی کسی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

ان اپیلوں نے نچلی عدالتوں کو تو اپنے موقف پر رضامند کر لیا، تاہم سپریم کورٹ میں ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت پر واضح کیا کہ امریکی قومی سلامتی اور دہشت گردانہ حملوں کے انسداد کے لیے اس پر عمل درآمد ضروری ہے۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ کے نو ججوں کی جیوری شامل تھی، جس نے دو کے مقابلے میں سات ووٹوں سے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر عمل درآمد کی اجازت دے دی۔

اس عدالتی فیصلے پر ردعمل میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے، ’’ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر حیرت نہیں ہے، جس میں دہشت گردی کے خطرات سے متعلق چند ممالک سے وابستہ خدشات کی بنا پر ان کے شہریوں کے امریکا میں داخلے کو محدود بنایا گیا ہے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:10
Now live
02:10 منٹ

ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ دورہ برطانیہ نہیں ہونا چاہیے، ڈاکٹر سجاد کریم

وائٹ ہاؤس کے مطابق، ’’ملک کے حفاظت کے لیے یہ حکم نامہ نہایت ضروری ہے۔ ہم عدالتوں میں اس بابت جاری مقدمات میں اپنے موقف کا مکمل دفاع کریں گے۔‘‘

اس عدالتی فیصلے پر تاہم کونسل آن امیریکن اسلامک ریلیشن نے تنقید کی ہے۔ اس تنظیم کے مطابق، ’’اس فیصلے میں صدر ٹرمپ کے حکم نامے کی وجہ سے متعدد امریکی شہریوں اور ان کے خاندان کے لیے پیدا ہونے والی صورت حال کو نظرانداز کیا گیا ہے۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار