امریکی حکام کے کہنے پر یاہو کی طرف سے جاسوسی | حالات حاضرہ | DW | 05.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی حکام کے کہنے پر یاہو کی طرف سے جاسوسی

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کمپنی یاہو نے امریکی خفیہ اداروں کے حکم پر کروڑوں صارفین کی ای میلز کو اسکین کیا۔ بتایا گیا ہے کہ یاہو کی جانب سے یہ نگرانی گزشتہ برس کے دوران کی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یاہو کو قومی سلامتی کے امریکی ادارے’این ایس اے‘ یا وفاقی تفتیشی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی جانب سے ایسا کرنے کے لیے کہا تھا۔ روئٹرز نے یہ رپورٹ یاہو کے تین ایسے سابق اور ایک نا معلوم اہلکار کے حوالے سے مرتب کی ہے جو نگرانی کے اس عمل سے واقف تھے۔ امریکی حکام کی جانب سے یاہو پر زور ڈالا گیا کہ وہ ایسی ای میلز کو اسکین کرے جن میں مخصوص حروف یا اصلاحات استعمال کی گئی ہوں۔ اس مقصد کے لیے یاہو نے امریکی حکومت کی درخواست پر ایک خصوصی سافٹ ویئر پروگرام بھی تیار کیا تھا۔

منگل چار اکتوبر کو جاری کی جانے والی اس رپورٹ پر امریکی محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کی جانب سے ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم رابطہ کرنے پر یاہو نے اس رپورٹ کو مسترد تو نہیں کیا مگر یہ ضرور کہا کہ کمپنی امریکی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی تمام کام کرتی ہے۔ دوسری طرف گوگل کمپنی نے کہا ہے کہ انہیں امریکی حکام کی جانب سے آج تک اس قسم کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ گوگل کی ’جی میل‘ دنیا کی سب سے بڑی ای میل سروس ہے۔ گوگل کے مطابق اگر ای میل کی جاسوسی کے لیے ان سے رابطہ کیا جاتا تو وہ اس سے فوری طور  پر انکار کر دیتے۔ اسی طرح مائیکرو سافٹ نے بھی کہا ہے کہ ان کی جانب سے کبھی صارفین کی ای میلز کی خفیہ نگرانی نہیں کی گئی۔

یاہو نے گزشتہ مہینے کہا تھا کہ ہیکرز نے ایک حملے میں پانچ سو ملین صارفین کے ای میلز اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ان کے کوائف چرا لیے تھے، جس میں ان کی تاریخ پیدائش، فون نمبرز اور پاس ورڈز شامل تھے۔ اسے کسی بھی ای میل کمپنی پر ہیکنگ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ 2014ء میں پیش آیا تھا اور اس وقت یاہو کی انٹرنیٹ سکیورٹی کی ذمہ داری الیکس اسٹیموس کے پاس تھی۔ اسٹیموس آج کل فیس بک میں اسی نوعیت کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

اشتہار