امریکی تاریخ میں نصرت چوہدری پہلی مسلم فیڈرل جج نامزد | حالات حاضرہ | DW | 21.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی تاریخ میں نصرت چوہدری پہلی مسلم فیڈرل جج نامزد

امریکی صدر جو بائیڈن نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک مسلمان خاتون ماہر قانون کو وفاقی عدالت کی جج کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ یہ خاتون چوالیس سالہ بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری نصرت جہاں چوہدری ہیں۔

امریکا میں فیڈرل جج کے عہدے کے لیے نامزد کردہ پہلی مسلم خاتون، بنگلہ دہشی نژاد چوالیس سالہ نصرت چوہدری

امریکا میں فیڈرل جج کے عہدے کے لیے نامزد کردہ پہلی مسلم خاتون، بنگلہ دہشی نژاد چوالیس سالہ نصرت چوہدری

صدر جو بائیڈن کی طرف سے نامزد کردہ نصرت جہاں مجموعی طور پر ان آٹھ امریکی ماہرین قانون میں سے ایک ہیں، جن کے نام فیڈرل ججوں کے طور پر تعیناتی سے پہلے توثیق کے لیے امریکی سینیٹ کو بھیجے گئے ہیں۔

’امریکا کی نسل پرستی سے مسلم برادری بھی متاثر ہو رہی ہے‘

نصرت جہاں چوہدری کے بارے میں امریکی سینیٹ کو یہ تجویز بھیجی گئی ہے کہ انہیں نیو یارک میں فیڈرل کورٹ کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی عدالت کی جج تعینات کیا جائے۔

شہری حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی وکیل

پیدائشی طور پر بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی 44 سالہ نصرت جہاں چوہدری شہری حقوق کے تحفظ کی سب سے بڑی امریکی تنظیم امیریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) سے وابستہ ہیں اور الینوئے میں اس تنظیم کے قانونی امور کی ڈائریکٹر ہیں۔

امریکا: میلکم ایکس قتل کیس میں 56 برس بعد دو مسلمان بری

الینوئے میں اے سی ایل یو کے لیے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران دیگر امور کے علاوہ نصرت چوہدری نے قانونی ماہرین کی اس ٹیم کی سربراہی بھی کی، جس کا کام شکاگو میں پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے تجاویز تیار کرنا تھا۔

اب تک تراسی نامزدگیاں

صدر جو بائیڈن نے امریکا میں وفاقی ججوں کے طور پر نامزدگیوں کے لیے جن مزید آٹھ امیدواروں کے نام حال ہی میں امریکی سینیٹ کو بھیجے، ان کو شامل کر کے ان کی طرف سے اپنی صدارتی ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد سے وفاقی عدلیہ میں مختلف عہدوں پر نامزد کردہ شخصیات کی مجموعی تعداد اب 83 ہو گئی ہے۔

ان بیسیوں ماہرین میں بہت سی خواتین بھی شامل ہیں اور کئی ایسے امریکی شہری بھی، جن کا تعلق تارکین وطن کے گھرانوں سے ہے یا جو پیدائشی طور پر امریکی شہری نہیں تھے۔

پاکستانی نژاد زاہد قریشی پہلے مسلم وفاقی امریکی جج مقرر

پہلے مسلمان فیڈرل جج پاکستانی نژاد زاہد قریشی

نصرت جہاں چوہدری صدر بائیڈن کی طرف سے کسی وفاقی عدالت کی جج کے طور پر نامزد کردہ پہلی مسلمان خاتون اور پہلی بنگلہ دیشی امریکی شہری تو ہیں مگر وہ پہلی امریکی مسلم شہری نہیں ہیں۔ نصرت جہاں چوہدری سے قبل گزشتہ برس جون میں صدر بائیڈن نے پاکستانی نژاد زاہد قریشی کو بھی فیڈرل  کورٹ کا جج نامزد کیا تھا۔

امریکا میں مسلمان آئمہ کی اشد ضرورت

زاہد قریشی کی نامزدگی کی سینیٹ کی طرف سے توثیق کے بعد وہ امریکی تاریخ میں کسی وفاقی جج کے عہدے پر تعینات ہونے والے پہلے مسلمان بن گئے تھے۔ زاہد قریشی کا تعلق پاکستانی تارکین وطن کے ایک گھرانے سے ہے اور انہیں ریاست نیو جرسی میں فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ کا جج نامزد کیا گیا تھا۔

زاہد قریشی کے والد نثار قریشی ایک ڈاکٹر تھے، جو 1970 ء  میں پاکستان سے ترک وطن کر کے امریکی ریاست نیو یارک میں آباد ہو گئے تھے۔ وہاں انہوں نے اپنا ایک کلینک کھول لیا تھا اور اپریل 2020ء میں اپنے انتقال تک وہ وہاں مریضوں کا علاج کرتے رہے تھے۔

م م / ک م (این پی آر، کے این اے)