امریکی تاریخ، جو اکثر لوگ سننا نہیں چاہتے | معاشرہ | DW | 30.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی تاریخ، جو اکثر لوگ سننا نہیں چاہتے

دسمبر 1941ء میں پرل ہاربر پر جاپانی فوج کے حملے کے بعد امریکی حکومت نے ملک میں موجود قریب 120,000 جاپانی اور جاپانی امریکی شہریوں کو لے جا کر جنگی قیدیوں کے کیمپوں میں بند کر دیا تھا۔

اُس وقت دلیل یہ دی گئی کہ یہ افراد ممکنہ طور پر جاسوس یا تخریب کار ہو سکتے ہیں اور امریکی فوج کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان میں سے محض 20 فیصد افراد ایسے تھے جو جاپان میں پیدا ہوئے تھے۔ زیادہ تر افراد وہ تھے جو دو یا تین نسلوں سے امریکا میں موجود جاپانی تارکین وطن گھرانوں میں پیدا ہوئے تھے۔ آج اس حراست کی وجہ نسل پرستی اور غیر ملکیوں کے خلاف نفرت کو قرار دیا جاتا ہے۔

میری موراکامی اُس وقت محض 14 برس کی تھیں جب ان کے خاندان کو زبردستی کیلیفورنیا سے لے جا کر یوتا میں قائم ایک حراستی کیمپ میں منقتل کر دیا گیا۔ موراکامی جو اب ایک ریٹائرڈ مائیکروبائیالوجسٹ ہیں، اس حراستی کیمپ کے بارے میں اپنے تجربات اپنے طلبہ، فوجیوں اور دیگر افراد تک پہنچاتی رہتی ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میری موراکامی کا کہنا تھا کہ جس روز پرل ہاربر پر جاپان نے حملہ کیا، امریکا میں مقیم جاپانیوں یا جاپانی پس منظر رکھنے والوں کے لیے اسی دن سے حالات مشکل ہونا شروع ہو گئے تھے۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے پاس پہلے سے ہی ایسے افراد کی فہرست موجود تھی اور انہوں نے لوگوں کو حراست میں لینا شروع کر دیا۔ پہلے ہی دن حراست میں لیے جانے والوں میں موراکامی کے ایک کزن بھی شامل تھے۔

موراکامی بتاتی ہیں کہ اگلی ہی رات سان فرانسسکو میں واقع جاپانی ٹاؤن میں امریکی فوج نے چھاپہ مارا اور اس دوران علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی اور کسی کو وہاں آنے یا جانے کی اجازت نہیں تھی۔

میری موراکامی کو 1942ءکے موسم بہار میں یوتا کے حراستی کیمپ میں منتقل کیا گیا۔ اس دوران ان کی آبادی میں فوج کی طرف سے کرفیو نافذ رہا جس میں بتدریج لوگوں پر پابندیاں بڑھتی چلی گئیں اور یہاں تک کہ 14 سالہ موراکامی سمیت بچوں کو اسکول جانے کی اجازت بھی نہیں تھی۔

موراکامی بتاتی ہیں کہ اس دوران بے روزگاری کے باعث لوگوں کے حالات مشکل ہوتے چلے گئے اور اس پر ستم یہ کہ ان لوگوں کو بینکوں میں موجود اپنی ہی رقوم نکلوانے کی اجازت نہیں تھی۔

فروری 1942ء میں اُس وقت کے امریکی صدر روز ویلٹ نے ایک ایگزیکٹیو آرڈر جاری کر دیا جس کے مطابق امریکا کی ہر مغربی ساحلی ریاست کو ملٹری زون قرار دے دیا گیا جس کے تحت جاپانی پس منظر رکھنے والے تمام لوگوں کو حراست میں لے کر ملک بھر میں پھیلے جنگی قیدیوں کے مراکز میں رکھا جا سکتا تھا۔ موراکامی کے مطابق اس حکم کے بعد حکومت کی طرف سے جاپانی رہائشی علاقوں میں پوسٹر لگا دیے گئے کہ انہیں ان مراکز میں لے جایا جائے گا اور وہ صرف وہی چیزیں اپنے ساتھ لا سکتے ہیں جنہیں وہ ساتھ رکھ سکیں۔

موراکامی کہتی ہیں کہ دیگر جاپانی خاندانوں کی طرح ان کے خاندان کو بھی اپنی قیمتی اشیاء اونے پونے داموں فروخت کرنا پڑیں اور بعض اہم چیزیں انہوں نے ایک ایسے گرجا گھر میں بطور امانت رکھوا دیں جس کی انتظامیہ میں جاپانی لوگ بھی شامل تھے۔ تاہم جب وہ حراستی مراکز سے واپس لوٹے تو ان میں سے بھی اکثر چیزیں غائب ہو چکی تھیں۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے موراکامی کا کہنا تھا کہ ان کی یہ کہانی لوگوں تک پہنچانا اس لیے ضروری ہے کیونکہ امریکی تاریخ کا یہ ایک ایسا باب ہے جس کے بارے میں لوگ سننا نہیں چاہتے مگر انہیں یہ کہانیاں سننا ہوں گی، خاص طور پر ان حالات میں کیونکہ بعض اخبارات اور بعض سیاستدان آج مسلمانوں کے ساتھ اُسی طرح کا برتاؤ کر رہے ہیں جیسا انہوں نے ہمارے ساتھ کیا تھا۔