امریکی انتخابات: تازہ ترین اپ ڈیٹس | حالات حاضرہ | DW | 04.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکی انتخابات: تازہ ترین اپ ڈیٹس

ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست فلوریڈا میں ایک کانٹے دار مقابلے کے بعد جیت حاصل کر لی ہے۔ لیکن کئی اہم ریاستوں کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔

  • جوبائیڈن مشیگن میں بھی فتح یاب۔ مجموعی پروجیکٹدڈ الیکٹورل ووٹ 253 ہو گئے۔ اب جوبائیڈن فتح سے فقط 17 الیکٹورل ووٹس کے فاصلے پر ہیں۔
  • جوبائیڈن نے کہا ہے کہ میں فتح کا اعلان تو نہیں کر رہا مگر مجھے یقین ہے کہ جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہو گی، تو فاتح ہم ہی ہوں گے۔
  • تازہ ترین پروجیکٹڈ نتائج کے مطابق جوبائیڈن کو 237اور صدر ٹرمپ کو 213 الیکٹورل ووٹ حاصل ہیں، جب کہ جیت کے لیے دو سو ستر کا عدد عبور کرنا ہے۔
  • ٹرمپ انتخابی ٹیم نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ پینسیلوینیا میں ووٹوں کی گنتی رکوائے۔ 
  • جوبائیڈن کے ایک مشیر نے کہا ہے کہ جوں ہی دو سو ستر الیکٹورل ووٹ کا ہندسہ عبور ہو گا، جوبائیڈن فتح کا اعلان کر دیں گے۔
  • صدر ٹرمپ کی جانبس ے کہا گیا ہے کہ وہ وسکونسن ریاست میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دیں گے۔
  • ہینسولوینیا ریاست میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ممکنہ طور پر تمام ووٹ گنے جانے اور حتمی نتیجہ سامنے آنے میں کل تک کا وقت لگ سکتا ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امریکی انتخابات جیت گئے ہیں حالانکہ اب تک انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ووٹوں کی گنتی کے معاملے پر سپریم کورٹ جائیں گے۔
  • جو بائیڈن کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ ووٹوں کی گنتی رکوانے کی اپنی دھمکی پر عمل کریں گے تو ان کی قانونی ٹیم اس عمل کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔  تقریباً 10 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ارلی ووٹنگ کے ذریعے پہلے ہی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔
  • امریکا میں صدر کا انتخاب عوامی ووٹ کے ذریعے چنے گئے الیکٹورل ووٹوں کی تعداد پر ہوتا ہے۔ جو بائیڈن 224 الیکٹورل ووٹ حاصل کر چکے ہیں جب کہ ٹرمپ نے 213 الیکٹورل ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔ کسی بھی امیدوار کو کامیابی کے لیے 538 میں سے 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہیں۔
  • مختلف ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اب تک فلوریڈا، اوہائیو، کینٹکی، کنساس، لوئزیانا، انڈیانا، ویسٹ ورجینینا، ساؤتھ کیرولائنا، ایڈاہو، الاباما، میسیسپی، ٹینیسی، اوکلوہاما، آرکانزاس، ساؤتھ ڈاکوٹا، نارتھ ڈاکوٹا، میزوری، نبراسکا، آئیووا اور مونٹانا میں جیت چکے ہیں۔
  • ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن امریکی ریاستمین،  ہوائی، مینیسوٹا، کولوراڈو، نیو میکسیکو، کیلیفورنیا، نیو ہیمشائر، اوریگان، ورمونٹ، ورجینیا، واشنگٹن، روڈ آئی لینڈ، نیو یارک، نیو جرسی، ماسیچیوسٹس، میری لینڈ، الینوائے، ڈیلاویئر، کنیکٹیکٹ اور ڈسٹرکٹ آف کولمبیا جیت چکے ہیں۔
  • پینسلوینیا، میشیگن اور فلوریڈا جیسی ریاستوں کو "سوئنگ اسٹیٹس" یا فیصلہ کن ریاستیں تصور کیا جا رہا۔
  • تازہ ترین صورتحال کے مطابق اب تک آنے والے نتائج کے مطابق جو بائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے۔
  •  صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سابق نائب صدر جو بائیڈن امریکہ کے 46ویں صدر بننے کے لیے ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہیں۔
  • ’الیکشن نتائج سے قطع نظر نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج جاری رہے گا‘
  • امریکا میں جو بھی جیتے،ایران کی امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہو گی: خامنہ ای
  • امریکی صدارتی انتخابات 2020: ووٹوں کی گنتی جاری، بائیڈن اور ٹرمپ میں کانٹے کا مقابلہ
ویڈیو دیکھیے 03:53

امریکی صدارتی نظام، کس ووٹر کا ووٹ زیادہ اہم ہے؟