′امریکی الزامات ، پاکستانیوں کے لیے دھوکے کے مترادف‘ | حالات حاضرہ | DW | 12.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'امریکی الزامات ، پاکستانیوں کے لیے دھوکے کے مترادف‘

پاکستانی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم نے امریکا کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان پر حالیہ الزامات کے عائد کیے جانے کو ’پاکستانیوں کو دھوکا دینے‘ کے مترادف محسوس کیا ہے۔

 پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ سے جاری ہوئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جوزف ایل ووٹل سے فون پر گفتگو کی ہے۔ اس گفتگو میں جنرل باجوہ نے امریکی کمانڈر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں حالیہ بیانات کے حوالے سے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایسے الزامات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز  کرنے کے مترادف ہیں۔

آئی ایس پی آر کی آج جاری ہوئی پریس ریلیز کے مطابق جنرل باجوہ نے امریکی کمانڈر جنرل جوزف کو مزید کہا کہ امریکا کے ان بیانات پر تمام پاکستانی قوم ایسا محسوس کر رہی ہے جیسے اسے امریکا نے دھوکا دیا ہے اور تمام پاکستانی عوام کا ردعمل ایسے ہی جذبات کا غماز ہے۔

امریکی مرکزی کمان کے سربراہ جوزف ایل ووٹل نے جنرل باجوہ کو بتایا کہ امریکا پاکستان کے اندر کسی قسم کی یکطرفہ کارروائی کرنے کے بارے میں غور نہیں کر رہا اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی قدر کرتا ہے۔ جنرل جوزف کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تناؤ کی کیفیت عارضی ثابت ہو گی۔ اور یہ کہ امریکا پاکستان سے یہ چاہتا ہے کہ اُن افغان عسکریت پسندوں سے سختی سے نمٹا جائے جو افغانستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں۔

US-General Joseph Votel (picture alliance/ZUMA Press/Y. Bogu)

جنرل جوزف ایل ووٹل کے مطابق امریکا پاکستان میں کسی قسم کی یکطرفہ کارروائی کے بارے میں غور نہیں کر رہا

 پاک آرمی کے سربراہ نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکی امداد کے بغیر بھی دہشت گردی کے سدّباب کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ مزید یہ کہ اسلام آباد حکومت پاکستان میں افغان شہریوں کی سرگرمیوں پر امریکی خدشات سے بخوبی واقف ہے اور اس حوالے سے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے سمیت کئی ایک اقدامات پہلے ہی اٹھائے جا چکے ہیں۔

اعلیٰ امریکی کمانڈر جوزف ایل ووٹل کی جانب سے موصول ہوئی فون کال پر اُن سے بات چیت میں جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکی امداد کی بحالی کا مطالبہ نہیں کرے گا لیکن اُسے توقع ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پاکستان کی قربانیوں اور تعاون کو تسلیم کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نئے سال کے آغاز پر اپنے پہلے ٹوئٹ پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کو پچھلے پندرہ برسوں میں بیوقوفانہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے زُمرے میں اربوں ڈالر کی امداد دی گئی، مگر اس کے بدلے میں پاکستان کی جانب سے امریکا کو فقط جھوٹ اور دھوکا ملا۔

DW.COM

اشتہار