’امریکا کے ’نو مور‘ کی کوئی حیثیت نہیں‘ | حالات حاضرہ | DW | 02.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امریکا کے ’نو مور‘ کی کوئی حیثیت نہیں‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سالِ نو کے اپنے پہلے ٹوئٹر پیغام میں پاکستان کے لیے امداد بند کر دینے کے عندیے کے بعد سے سوشل میڈیا پر اس ٹوئٹ پر دھواں دھار تبصرے کیے جارہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹوئٹ پر سوشل میڈیا میں بحث جاری ہے جس میں انہوں نے پاکستان پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کو امداد دینے کے باوجود امریکا کو اس ملک سے صرف جھوٹ اور دھوکہ ہی ملا ہے۔

 اس ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ عسکریت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہيں فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ٹوئٹ پیغام کا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے جہاں  ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد امریکی صدر کی اس ٹوئٹ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان افراد میں  صحافی، تجزیہ کار اور سیاست دان بھی شامل ہیں۔

صحافی طلعت حسین نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے اس پیغام  کو سنجیدگی سے لینا چاہیےکیونکہ  اس میں دھمکی کا عنصر شامل ہے اور اب ایک مشترکہ اور عقلمندانہ جواب دینے کی ضرورت ہے۔ طلعت حسین مزید لکھتے ہیں کہ اب کسی ایک ادارے کی جانب سے ٹرمپ کی ٹوئٹ کا جواب نامکمل ہو گا اور  پاکستان کو مشترکہ طور پر اپنا ردعمل دینا ہوگا۔

امریکا میں پاکستان کی سابق سفیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن شیری رحمان نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ کولیشن سپورٹ فنڈ کو پاکستان میں کبھی بھی امداد کے طور پر نہیں لیا گیا اور نہ ہی اسے مالی معاونت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ پیسہ پاکستان کو سرحد پر مشترکہ کارروائیوں کے لیے دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ’امداد‘ پر بات علیحدہ سے کرنا ہوگی کیوں کہ پاکستان نے کبھی بھی نیٹو افواج کی آمد ورفت کا معاوضہ نہیں لیا۔‘‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹوئٹ میں سخت موقف اپناتے ہوئے لکھا،’’ ہم شدت پسندی کا خاتمہ کریں گے کیوں کہ یہ ہمارے اپنے مفاد میں ہے۔ ہم امریکا کو اس کی اپنی ناکامیوں کی وجہ سے پاکستان کو قربانی کا بکرا بننے نہیں دیں گے۔‘‘ بلاول نے یہ بھی لکھا کہ امریکا افغانستان، عراق، شام اور ان دوسری دلدلوں میں جیتنا چاہتا ہے جہاں جہاں وہ پھنس گیا ہے۔ اُس کے پاس وہاں سے نکلنے کا کوئی منصوبہ بھی نہیں ہے۔ امریکا کے پاس اب حقائق سے چشم پوشی، الزامات اور بہانے ہی رہ گئے ہیں۔

امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور سابقہ سکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انسانی اورا قتصادی نقصان اٹھایا۔ پاکستان کو 120 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس کے عوض بہت ہی معمولی رقم پاکستان کو دی گئی۔‘‘

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے گزشتہ روز پاکستانی چینل جیو ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار امریکا کو اپنے لوگوں کو ٹھہرانا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا،’’ ہم امریکا کو ’نو مور‘ کہہ چکے ہیں لہذا امریکا کے ’نو مور‘ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔‘‘ خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کے دیے ہوئے ہر پیسے کا حساب دینے کو تیار ہے۔

پاکستانی سرکاری ریڈیو اسٹیشن کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق  پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی امداد القاعدہ کے خلاف کارروائیاں کرنے کے لیے دی گئی تھی۔

دوسری جانب پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں وزیر اعظم مُودی کی حکومت کے وزیر مملکت جیتندر سنگھ نے پاکستان کے حوالے سے ٹرمپ کی ٹوئٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا،’’ ٹرمپ انتظامیہ نے دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے کردار سے متعلق بھارت کے موقف کی تائید کی ہے۔ دہشت گردی سےکوئی بھی  قوم، ملک اور خطہ محفوظ نہیں ہوتا۔‘‘

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے بھی ٹرمپ کی ٹوئٹ کی تائید کی۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان کے دیہاتوں اور گھروں میں بم باری کرنے میں نہیں،  بلکہ افغانستان کی سرزمین سے باہر کمین گاہوں  میں ہے۔ میں صدر ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں۔‘‘ حامد کرزئی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ ایک علاقائی اتحاد بننا چاہیے جو پاکستان کی فوج کو افغانستان اور اس پورے خطے میں امن قائم کرنے پر مجبور کرے۔

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کو اسی بیان کے تناظر میں پیر کی شب دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ دارالحکومت اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے نے ڈیوڈ ہیل اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقات کی تصدیق کی ہے، تاہم اس ملاقات میں ہونے والی گفت گو کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

DW.COM

اشتہار