امریکا کی پہلی سیاہ فام نوبل انعام یافتہ ادیبہ ٹونی موریسن کا انتقال | فن و ثقافت | DW | 06.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

امریکا کی پہلی سیاہ فام نوبل انعام یافتہ ادیبہ ٹونی موریسن کا انتقال

معروف امریکی سیاہ فام ادیبہ ٹونی موریسن اٹھاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ انہیں چھبیس برس قبل ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی امریکا کی پہلی سیاہ فام مصنفہ تھیں۔

امریکی شہر نیو یارک سے منگل چھ اگست کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق ٹونی موریسن کے اہل خانہ نے آج ہی جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ مصنفہ مختصر علالت کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئی ہیں۔

ساتھ ہی اس بیان میں کہا گیا، ''اگرچہ ان کا انتقال ہم سب کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے، تاہم اس حوالے سے ہم شکرگزار ہیں کہ انہوں نے ایک طویل اور بہت اچھی طرح بسر کی گئی زندگی گزاری۔‘‘

نیو یارک ہی میں ٹونی موریسن کے پبلشر الفریڈ کنوپف نے بتایا کہ اس ادیبہ کا انتقال پیر پانچ اگست کی رات نیو یارک شہر کے مونٹی فیور میڈیکل سینٹر میں ہوا۔ موریسن امریکا کی وہ پہلی سیاہ فام مصنفہ تھیں، جنہیں 1993ء میں ادب کے نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔

انہیں نوبل انعام دیے جانے کی تقریب میں سویڈش اکیڈیمی کی طرف سے ان کے طرز تحریر، تحریروں کی لسانی انفرادیت اور ان کی بصیرت کی طاقت کو خاص طور پر سراہا گیا تھا۔

Toni Morrison erhält Literaturnobelpreis 1993 (picture-alliance/AP Photo)

ٹونی موریسن انیس سو ترانوے میں ادب کا نوبل انعام وصول کرتے ہوئے سویڈن کے شاہ کارل گسٹاف سے ہاتھ ملاتے ہوئے

ٹونی موریسن کو ان کے ناول 'محبوب‘ یا Beloved کی وجہ سے 1988ء میں فکشن کا پولٹزر پرائز بھی دیا گیا تھا۔ یہ ناول ایک ایسی ماں کے بارے میں ہے، جس نے اپنی بیٹی کو غلامی کی زندگی سے بچانے کے لیے اسے قتل کر دینے کا المناک فیصلہ کیا تھا۔

USA Obama verleiht Freiheitsmedaille des Präsidenten an Toni Morrison (Getty Images/AFP/M. NGAN)

باراک اوباما ٹونی موریسن کو صدارتی میڈل آف آنر پہنانتے ہوئے

ٹونی موریسن امریکا کے سیاہ فام ادیبوں میں بہت منفرد اور اعلیٰ مقام کی حامل تھیں اور انہیں افریقی نژاد امریکی مصنفین کی اہم ترین نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کی اہم ترین تصنیفات میں 'انتہائی نیلی آنکھیں‘، 'سلیمان کا گیت‘، 'انسان کا بچہ‘، 'جاز‘ اور 'جنت‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

اس ادیبہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی تصنیفات، ان کے لیے منتخب کیے گئے موضوعات اور ان میں استعمال کیے گئے اپنے انتہائی منفرد لسانی اسلوب کے ساتھ اپنے ملک اور دنیا بھر کے انسانوں کو اس بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی کہ 'نامعلوم اور ناپسندیدہ انسانوں کی نجی زندگی کیسی ہوتی ہے‘۔

دنیا بھر میں ٹونی موریسن کے کروڑوں قارئین اور مداحوں میں مختلف براعظموں کے نوجوان طلبہ سے لے کر گھریلو خواتین اور سماجی جدوجہد کرنے والے انسانوں تک ہر کوئی شامل ہے۔ موریسن کے امریکی قارئین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، جن میں سے اہم ترین ناموں میں سے ایک نام سابق صدر باراک اوباما کا بھی ہے۔ باراک اوباما کے دور صدرات میں ٹونی موریسن کو امریکا کا 'صدارتی میڈل آف آنر‘ بھی دیا گیا تھا۔

DW.COM