امریکا کی نیت پر شکوک وشبہات ہیں، طالبان سربراہ | حالات حاضرہ | DW | 08.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا کی نیت پر شکوک وشبہات ہیں، طالبان سربراہ

افغان طالبان کے سربراہ  مُلا ہیبت اللہ اخونزادہ نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اپنے قول وفعل سے افغانستان میں جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے بارے میں  شکوک پیدا کر رہا ہے۔

عید سے پہلے اپنے ایک پیغام میں مُلا ہیبت اللہ نے کہا کہ امریکی حکام کی طرف سے متضاد بیانات اور سویلین آبادی پر اندھادھند بمباری سے اس کی نیت پر شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدگی سے مذاکرات کر رہے ہیں لیکن امریکا اپنے اقدامات اور بیانات سے بے یقینی پیدا کر رہا ہے۔

ان کا یہ بیان کابل میں طالبان کے تازہ خودکش حملے کے محض ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔ بدھ کے روز کیے گئے اس کار بم حملے میں کم از کم چودہ لوگ مارے گئے اور ایک سو پینتالیس زخمی ہوئے۔ افغان حکام کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کا نشانہ افغان سکیورٹی فورسز تھیں۔

طالبان اور امریکا دونوں کہتے رہے ہیں کہ وہ  قیام امن کی کوششوں کا سلسلہ تیز کرنے کے خواہاں ہیں۔ تاہم قطر میں جاری مذاکراتی عمل کے باوجود افغانستان میں پرتشدد واقعات میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

فریقین کے درمیان مذکرات کا آٹھواں دور ابھی گزشتہ ہفتے دوحہ قطر میں ہوا، جس کے بعد امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد اور طالبان دونوں پرامید نظر آئے کہ وہ مسئلے کے حل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

امریکا کے مطابق طالبان کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے میں یقینی طور پر امریکی فوج کے انخلا کا عمل شامل ہو گا اور افغانستان میں امریکی موجودگی کی شرائط کو بھی شامل کیا جائے گا۔

 طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ ممکنہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ضمانتیں فراہم کریں گے لیکن تب تک بظاہر ان کی طرف سے حملوں اور کاروائیوں میں کمی آنے کی بجائے تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

DW.COM