امریکا: کورونا وائرس سے متاثرین کی مصدقہ تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ | حالات حاضرہ | DW | 11.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا: کورونا وائرس سے متاثرین کی مصدقہ تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ

محقیقین کا کہنا ہے کہ امریکا میں آئندہ ستمبر تک کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ ادھر جرمنی نے 15جون سے یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے یورپ کے اندر سفر کرنے کی اجارت دے دی ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 73 لاکھ ہے جبکہ عالمی سطح پر اب تک چار لاکھ 15 ہزار افراد اس بیماری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ 

امریکا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں مصدقہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی ہے اور ایک لاکھ 10 ہزار سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں اس وبا سے آئندہ ستمبر تک دو لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

لاطینی امریکی ممالک میں بھی کووڈ 19 سے ہلاکتوں کی تعداد 70 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے جس میں سے نصف سے زائد ہلاکتیں صرف برازیل میں ہوئی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک میں کورونا وائرس کے انفیکشن میں اضافے کے باوجود آئندہ ہفتے مختلف ریاستوں بڑی ریلیاں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جرمنی نے 15 جون سے یوروپی ممالک کے شہریوں کے لیے سرحدوں پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم 160 ممالک کے لیے سفر سے متعلق وارننگ جاری رہے کی ہے۔

جرمنی میں رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 555 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور اس طرح ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار 416 ہوگئی ہے۔ اس دوران 26 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں اور اموات کی تعداد آٹھ ہزار 755 تک پہنچ گئي ہے۔ گزشتہ روز صرف 318 نئے کیسز کا پتہ چلا تھا جبکہ  18 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس طرح پہلے کے مقابلے میں دونوں سطح پر یہ اہم اضافہ ہے۔ 

جرمن چانسلر انگیلا میرکل جمعرات 11 جون کو چینی وزیراعظم لی کیانگ سے ویڈیو کانفرسنگ کے ذریعے بات چیت کرنے والی ہیں۔ بات چيت کا ایک اہم موضوع دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری سرگرمیوں کا دوبارہ آغاز  ہوگا۔ کورونا وائرس سے دنیا کی تمام بڑی معیشتیں متاثر ہوئی ہیں اور کاروباری سرگرمیاں تقریبا ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس دوران چین اور امریکا کے درمیان بھی کئی اہم امور کے تعلق سے کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہا ہے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان پیدا ہونے والی اس نئی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔

ادھر امریکا میں جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمیاں کی جا رہی ہیں، کچھ ریاستوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا میں اس وبا سے اب تک ایک لاکھ  13 ہزار افراد کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ بیس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ ہارورڈ  یونیورسٹی میں 'گلوبل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ' سے وابستہ آشیش جھا کا کہنا ہے کہ امریکا میں "اگر اب کیسز میں اضافہ نہ ہو، تو بھی ستمبر تک دو لاکھ افراد کی اموات کی توقع معقول بات ہے۔ اور یہ صرف ستمبر تک کی بات ہے۔ لیکن عالمی وبا ستمبر میں ختم ہونے والی نہیں ہے۔"    

نیوزی لینڈ کے بعد چھوٹے ملک بھوٹان نے بھی کورونا وائرس سے نمنٹنے کی اچھی مثال پیش کی ہے اور وہاں اس وبا سے ایک بھی شخص اب تک ہلاک نہیں ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بہت کم وسائل کے باوجود بھوٹان  نے اس بحران پر قابو پا لیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:42

کورونا وائرس پھیلے گا یا اس میں کمی واقع ہو گی یہ معلوم کیسے ہوتا ہے؟

تھائی لینڈ میں بھی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ  24 گھنٹوں میں کورونا وائر کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آيا ہے اور گزشتہ تین ہفتوں کے بعد ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ تھائی لینڈ میں مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کا کوئی بھی کیسر گزشتہ دو ہفتوں سے نہیں ہوا تھا اور ان دنوں میں جو بھی کیسز سامنے آئے ان کا تعلق بیرونی ملک سے واپس ہونے والوں سے تھا۔ ملک میں اب تک تین ہزار 125 افراد اس وبا سے متاثر ہوئے ہیں اور 58 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لاطینی امریکی ملک میکسیکو میں گزشتہ  24 گھنٹوں میں کووڈ 19 سے 708 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسی دوران چار ہزار 833 نئے متاثرین کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ملک میں اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 29 ہزار 184 افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ 15 ہزار 357 ہلاک ہو چکے ہیں۔

چین میں  11 نئے مصدقہ کیسز کا پتہ چلا ہے جبکہ چار میں اس کی علامات بلکل نہیں پائی گئیں۔ ان تمام کیسز کا تعلق ان افراد سے ہے جو بیرونی ممالک سے سفر سے واپس آئے تھے۔ چین یمن متاثرین کی تعداد 83 ہزار 57 ہے جبکہ چار ہزار 634 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔

بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ نو ہزار 996 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ایک دن میں یہ اب تک کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس دوران ملک میں 357 افراد کووڈ 19 سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔ بھارت متاثرین کی تعداد کے حساب سے عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے جہاں اب تک دو لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ  آٹھ ہزار 102 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس دوران تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ 

ص ز/ ک م (ایجنسیاں)

DW.COM