امریکا میں کورونا وائرس سے اموت دو لاکھ سے متجاوز | حالات حاضرہ | DW | 23.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا میں کورونا وائرس سے اموت دو لاکھ سے متجاوز

امریکا میں کورونا وائرس کی وبا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ معاشی اور عسکری لحاظ سے دنیا کے سب سے طاقتور ملک میں محض سات ماہ کے اندر اتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

امریکا کی جان ہاپکنز یونیورسٹی نے منگل 22 ستمبر کو جو نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں اس کے مطابق امریکا میں کورونا وائرس کی مہلک وبا سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ تازہ اعدادو شمارکے مطابق ملک میں 68 لاکھ سے زیادہ افراد کووڈ 19 سے اب تک متاثر اور دو لاکھ پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق متاثرین اور ہلاک ہونے والے افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ 

امریکا میں رواں برس جنوری میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کا انکشاف ہوا تھا اور فروری میں اس سے پہلی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔ اس وقت سے دنیا کے باقی ملکوں کے مقابلے میں امریکا میں کہیں زیادہ متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا کے ابتدائی مرحلے میں امریکا میں بھی ٹیسٹنگ کا نظام زیادہ موثر نہیں تھا اسی لیے کورونا وائرس سے ہونے والی بہت سی اموات کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا اور انہیں اس ڈیٹا میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی میں پبلک ہیلتھ ریسرچ شعبے سے وابستہ جینیفر نزو نے دو لاکھ افراد کی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ''یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ہم اس مقام تک پہنچ کیسے گئے۔''

امریکا کی مجموعی آبادی تقریبا 33 کروڑ افراد پر مشتمل ہے۔ یعنی دنیا کی آبادی کا صرف پانچ فیصد لیکن عالمی سطح پر کورونا وائرس کی وبا سے امریکامیں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 فیصد ہے۔ دنیا میں اب تک اس وبا سے تین کروڑ دس لاکھ کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں اور تقریبا ًنو لاکھ 65 ہزار ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس میں سے امریکا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

صدارتی انتخابات پر کورونا کے بادل

امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کے یہ اعداد و شمار ایک ایسے وقت آئے ہیں جب صدارتی انتخابات کے لیے مہم زور پکڑتی جا رہی ہے۔ تین نومبر کو ووٹ ڈالنے سے قبل کورونا وائرس سے نمٹنے کے سلسلے میں صدر ٹرمپ پر کافی نکتہ چینی ہوتی رہی ہے اور انتخابی مہم میں یہ موضوع  سبھی کی توجہ کا مرکز ہے۔

صدر کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ اس بحران پر قابو پانے میں مسلسل ناکامیوں کا ثبوت دے رہے ہیں۔ کئی بار خود صدر ٹرمپ نے کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کو بہت ہی معمولی بتا کر اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کہتے رہے ہیں کہ ملک اس سے جلد ہی چھٹکارا حاصل کر لے گا یا پھر وبا بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے۔ وہ اس بات کا بھی دعوی کرتے رہے ہیں کہ تین نومبر کو ووٹنگ سے پہلے تک اس کا ویکسین تیار ہوجائیگا۔

وبا کی بگڑتی صورت حال 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وباسے متعلق وائٹ ہاؤس کی غیر واضح پالیسیوں سے اس کی روک تھام کی کوششیں موثر ثابت ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ثابت ہوئیں اور ریاستی حکومتوں کی کوششوں کو بھی دھچکا لگا۔ اس سے نمٹنے میں ناکامی سے یہ بات بھی کھل کر سامنے آئی کہ امریکی سماج میں کس قدر عدم مساوات موجود ہے۔

ملک کی تقریبا ًتین کروڑ کی آبادی جہاں ہیلتھ انشورنس سے محروم ہے وہیں کورونا کی وبا سے سب سے زیادہ اقلیتی طبقے متاثر ہوئے۔ اس سے مسلسل ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا رہا اور ہر روز اوسطاً تقریباً 770 افراد ہلاک ہوتے رہے۔

 صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ماسک پہننے اور سوشل ڈسٹینسنگ پر پوری طرح سے عمل نہ کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹنگ میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا گیا تو یہ وبا ختم ہونے کے بجائے، خاص طور پر موسم سرما اور خزاں کے موسم میں، اپنے پیر جمائے رہے گی۔ واشنگٹن میں ایک یونیورسٹی نے حال ہی میں متنبہ کیا تھا کہ جنوری تک امریکا میں کورونا وائرس کی وبا سے ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ جائیگی۔

ص ز / ج ا (ایجنسیاں)

ویڈیو دیکھیے 03:39

کیا دو میٹر کا سماجی فاصلہ، کورونا سے بچاو کے لیے کافی ہے؟

DW.COM