امریکا میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ، تین ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 28.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکا میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ، تین ہلاک

امریکی ریاست کولوراڈو میں ایک شخص نے ایک کلینک میں داخل ہو کر رائفل سے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے ہیں۔

کولوراڈو اسپرنگز کے پولیس سربراہ پیٹر کارنی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو عام شہری جبکہ ایک پولیس اہلکار شامل ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کارنی نے میڈیا کو یہ بات جمعہ کی شب اور حملہ آور کو گرفتار کیے جانے کے کوئی ایک گھنٹہ بعد بتائی۔

ہسپتال کے علاقے میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے تمام نو افراد خطرے سے باہر ہیں۔ کارنی کے مطابق زخمی ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار جبکہ چار سویلین ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کی شناخت کی تصدیق آج ہفتے کے روز متوقع ہے اور یہ کہ اس شخص نے اپنے طور پر یہ اقدام کیا۔

فائرنگ کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ کولوراڈو اسپرنگز گزٹ نامی اخبار نے اپنے ذرائع سے حملہ آور کی شناخت رابرٹ لیوس ڈیئر بتائی ہے جس کی عمر 57 برس ہے۔

ہلاک ہونے والے پولیس اہلکار کا نام گیریٹ سواسی بتایا گیا ہے۔ یہ 44 سالہ اہلکار کولوراڈو اسپرنگز میں واقع یونیورسٹی آف کولوراڈو کی کیمپس پولیس کا حصہ تھا۔ حکام کے مطابق فائرنگ کی اطلاع ملنے پر یہ پولیس اہلکار سٹی پولیس کے ساتھ اس آپریشن میں شریک ہوا تھا۔

جس کلینک پر فائرنگ کی گئی، وہاں خواتین کو حمل گرانے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اِس طبی مرکز کے سربراہ وِکی کووارٹ نے بھی بلا اشتعال فائرنگ کی وجوہات بتانے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں اسقاط حمل کے حوالے سے پائی جانے والی فضا اس طرح کے تشدد کی وجہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم بہت سے امریکیوں کے تحفظات میں شریک ہیں کہ شدت پسند ایک زہریلی فضا پیدا کر رہے ہیں جس سے ملک میں داخلی طور پر دہشت گردی جنم لے رہی ہے۔‘‘ کووارٹ نے سی این این کو بتایا کہ فائرنگ سے بچنے کے لیے کلینک کے کچھ اسٹاف نے سکیورٹی پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے عمارت میں خصوصی طور پر بنائے گئے ’محفوظ کمروں‘ میں پناہ لے لی تھی۔

اسقاط حمل کے مرکز میں داخل ہونے والے شخص کی شناخت اور فائرنگ کے محرکات بارے پولیس نے بھی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

روئٹرز کے مطابق کولوراڈو اسپرنگز کے اس کلینک کے خلاف اسقاط حمل کی مخالفت کرنے والے افراد متعدد مرتبہ مظاہرے کر چکے ہیں اور چند برس قبل اسے شہر کے شمال مغربی حصے میں بنائی گئی نئی عمارت میں منتقل کیا گیا تھا۔