امریکا میں امیگریشن جیل پر حملہ، مظاہرے پھر شروع | حالات حاضرہ | DW | 15.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا میں امیگریشن جیل پر حملہ، مظاہرے پھر شروع

امیگریشن جیل پر ایک مسلح حملہ آور کی جانب سے دھماکا خیز مواد پھینکے جانے کے ایک روز بعد مظاہرین اس جیل کے باہر دوبارہ جمع ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ آور بعد میں مردہ حالت میں ملا تھا۔

ہفتے کو روز جائے وقوعہ پر جب چار پولیس اہلکار پہنچے تو انہیں وہاں 69 سالہ ویلم فان سپرونسن مردہ حالت میں ملے۔ اس واقعے کے بعد نجی کمپنی کی ملکیت ٹیکما نارتھ ویسٹ حراستی مرکز کے باہر مظاہرین جمع ہو گئے۔ یہ مظاہرین امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز سے متعلق پالیسیوں اور اس حراستی مرکز کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق قریب ایک سو مظاہرین اس مرکز کے باہر جمع ہوئے۔

یورپ میں ویزا لے کر آنے والے بھی پناہ کے درخواست دہندگان

امریکیوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اس حراستی مرکز میں ان تارکین وطن کو رکھا جاتا ہے، جنہیں ملک بدر کیا جانا ہو۔ اس کے علاوہ اس حراستی مرکز میں بچوں سے الگ کر دیے گئے تارکین وطن والدین کو بھی قید کیا جاتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیرقانونی ترک وطن سے متعلق 'صفر برداشت‘ کی پالیسی کے تحت امریکا میں غیرقانونی طور پر پہنچنے والوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس حراستی مرکز کے ایک منتظم جی ای او گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے اس مرکز کے باہر مقامی افراد کے جمع ہونے کا علم ہے: ''ہم تمام افراد کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، جو اپنی رائے کے اظہار کر رہے ہیں۔‘‘

اتوار 14 جولائی کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد مقامی میڈیا نے حراستی مرکز کی دیواروں پر لگنے والی گولیوں کے نشانات بھی دکھائے۔ پولیس نے بعد میں اس واقعے کے مشتبہ ملزم فان سپرونسن کے گھر کی تلاشی بھی لی۔

اس ملزم کی دوست نے مقامی اخبار سے بات چیت میں کہا کہ فان سپرونسن اس مرکز پر حملہ کر کے حراستی مرکز میں موجود افراد کو انتظامیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا پیغام دینا چاہتا تھا کیوں کہ وہ فاشزم کے خلاف نظریات کا حامل تھا: ''وہ جانتا تھا کہ وہ ایسے حملے میں مارا جائے گا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے سیاسی نظریات کے اظہار کے لیے یہ حملہ کرنے میں کامیاب رہا۔‘‘

ع ت، ع الف (اے پی، روئٹرز)

 

DW.COM