امریکا: میلکم ایکس قتل کیس میں 56 برس بعد دو مسلمان بری | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا: میلکم ایکس قتل کیس میں 56 برس بعد دو مسلمان بری

امریکا میں انسانی حقوق کے علمبردار میلکم ایکس قتل کیس دو مسلم ملزمان کو 56 برس کے بعد ایک عدالت نے بے قصور قرار دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ملزمین 'انصاف کی تاریخی موت' کا شکار ہو گئے۔

میلکم ایکس

میلکم ایکس

امریکا میں انسانی حقوق کے علمبردار میلکم ایکس کا سن 1965میں قتل کر دیا گیا تھا۔ محمد عزیز اور خلیل اسلام کو ان کے قتل کا قصور وار قراردیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا تھا۔ اب 56 برس بعد نیویارک کے ڈسٹرکٹ جج سائرس وینس نے گزشتہ روز اپنے فیصلے میں کہا کہ شواہد کی بنیاد پر وہ ان دونوں ملزمین کو بے قصور قرار دیتے ہیں۔

جج وینس نے تسلیم کیا کہ محمد عزیز اور خلیل اسلام کو غلط سزائیں سنائی گئی تھیں۔ وہ دونوں بے قصور تھے اور یہ دونوں افراد 'انصاف کی تاریخی موت'کا شکار ہو گئے۔

وینس نے بعد میں نیویارک ٹائمز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا، "یہ دونوں جس انصاف کے مستحق تھے وہ انہیں نہیں ملا۔ ہم اس کے علاوہ اور کیا اعتراف کرسکتے ہیں کہ غلطی ہوئی، ایک سنگین غلطی۔"

خلیل اسلام 12برس قبل ہی وفات پا چکے ہیں۔ محمد عزیز نے فیصلے کے بعد کہا کہ انہیں ایسے بدعنوان نظام کا سامنا کرنا پڑا جسے امریکا میں سیاہ فام بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عدالتی نظام اس نقصان کی بھی ذمہ داری قبول کرے جو انہیں 55 برس تک بھگتنا پڑا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق مینہیٹن ڈسٹرکٹ جج کے دفتر اور وکلاء نے 22 ماہ تک مشترکہ طور پر اس کیس کی تفتیش کی۔ انہوں نے پایا کہ استغاثہ، ایف بی آئی اور نیویارک محکمہ پولیس نے ایسے شواہد کو چھپا یا جن کی بنیاد پر یہ دونوں افراد بے قصور قرار پاتے۔

مینہیٹن کے جج ایلین بائبن نے جمعرات کے روز عزیز اور خلیل کو باضابطہ طورپر بے قصور قرار دے دیا۔

محمد عزیز مین ہٹن عدالت کے باہر

محمد عزیز مین ہٹن عدالت کے باہر

میلکم ایکس کے ساتھ کیا ہوا تھا؟

فروری 1965میں موت سے تقریباً ایک برس قبل انسانی حقوق کے علمبردار میلکم ایکس نے نیشن آف اسلام نامی تنظیم کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ بعد کے مہینوں میں تنظیم نے میلکم ایکس کو دھمکیاں دینا شروع کردی تھیں اور اپنے قتل سے چند ہفتے قبل انہوں نے بعض دوستوں سے کہا تھا کہ ان کو ایسا لگتا ہے کہ نیشن آف اسلام کی قیادت انہیں مار ڈالنا چاہتی ہے۔

اکیس فروری کو جب وہ ایک خطاب کرنے کی تیاری کر رہے تھے، تبھی بندوق برداروں کے ایک گروپ نے ان پر فائرنگ کر دی۔ بعض عینی شاہدین نے ان بندوق برداروں کی شناخت محمد عزیز، خلیل اسلام اور عبدالحلیم کے طور پر کی۔ عزیز اورخلیل کا کہنا تھا کہ وہ واردات کے وقت موقع پر موجود ہی نہیں تھے۔ حلیم نے گولی چلانے کا اعتراف کیا اور ان کا کہنا تھا کہ دیگر دونوں ملزمین بے قصور ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے اصل ساتھیوں کے نام پولیس کو نہیں بتائے۔

واشنگٹن میں کام کرنے والے وکیل جینے روسی کا کہنا ہے کہ یہ کیس "تعصب کی بنیاد پر شواہد کی تصدیق کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے افراد کی ایک کلاسک مثال ہے۔"

روسی نے ڈی ڈبلیو سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا، "ان کے سامنے تین افراد تھے محمد حلیم، محمد عزیز اور خلیل اسلام اور انہوں نے لیزر بیم کی طرح ان تینوں پر ہی اپنا نشانہ مرکوز رکھا اور ولیم بریڈلی نامی ایک دیگر سازشی کو نظر انداز کر دیا۔ یہ دراصل غلطیوں کا ڈرامہ تھا جس میں شواہد کے کلچر کا یکسر فقدان تھا۔"

خلیل اسلام کے بیٹے امین اور شاہد مین ہٹن عدالت کے باہر

خلیل اسلام کے بیٹے امین اور شاہد مین ہٹن عدالت کے باہر

محمد عزیز، جن کی عمر اب 83 برس ہوگئی ہے، کو 1966میں تاحیات عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم 1985میں رہا کر دیا گیا۔ خلیل اسلام کو بھی عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن 1987میں رہا کردیا گیا البتہ 2009 میں ان کی موت ہو گئی۔ دونوں اپنی بے گناہی کا مسلسل اصرار کرتے رہے تھے۔

محمد عزیز نے ایک بیان میں کہا، "ان کے ساتھ جو کچھ ہوا خدا نہ کرے کسی اور کے ساتھ ہو۔ وہ ایک بدعنوان عدالتی نظام کا شکار ہوگئے، جس سے ہر کوئی واقف ہے۔ یہ نظام سن 2021 میں بھی برقرار ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "گوکہ مجھے عدالت، وکیل یا کاغذ کے کسی ایسے ٹکڑے کی ضرورت نہیں جس میں میری بے گناہی درج ہو۔ لیکن میں خوش ہوں کہ میرا خاندان، میرے دوست اور وکلاء اور دیگر افراد نے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا اور میری بے گناہی بہر حال سب کے سامنے آ گئی۔"

وکیل جینے روسی کا خیال ہے کہ اس نا انصافی کے باوجود پولیس افسران کوشاید ہی کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے تاہم کہا کہ اس سے ہمیں یہ سبق سیکھنا چاہئے کہ انصاف کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی وجہ سے کس طرح دو بے گناہ افراد کو 20 برسوں تک جیل میں رہنا پڑا۔

ج ا/ ص ز (اے پی، روئٹرز)

 

DW.COM