امریکا مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے کوشاں | حالات حاضرہ | DW | 28.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے کوشاں

امریکا نے برطانیہ اور فرانس کے تعاون کے ساتھ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں جیش محمد کے بانی مسعود اظہر کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کے لیے قرارداد تیار کر لی ہے۔ چین نے ایسی ہی ایک گزشتہ قرارداد کو روک دیا تھا۔

نیوز ایجنسی ڈی پی اے اور اے پی کے مطابق اس نئی امریکی قرارداد کا مسودہ بدھ ستائیس مارچ کے روز اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ارکان کو فراہم کیا گیا۔ مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے سے متعلق اس قرارداد کو امریکا کے علاوہ برطانیہ اور فرانس کی حمایت بھی حاصل ہے۔

نئی دہلی حکومت چودہ فروری کے روز بھارتی زیر انتظام کشمیر میں فوجی قافلے پر کیے گئے خود کش حملے کی ذمہ داری جیش محمد پر عائد کرتی ہے۔ اس حملے میں چالیس سے زائد فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد پاکستان اور بھارت جنگ کے دھانے پر پہنچ گئے تھے۔

سکیورٹی کونسل سے قرارداد کی منظوری کی صورت میں جیش محمد کے بانی مسعود اظہر کو بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا، ان کے اثاثے منجمد اور ان پر سفری پابندیاں بھی عائد کر دی جائیں گی۔ ڈی پی اے کے مطابق مسودے میں چودہ فروری کے ’بزدلانہ اور ہولناک خود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت‘ بھی کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں ’پلوامہ دہشت گردانہ حملے میں ملوث افراد، منصوبہ بندی کرنے اور ان کی معاونت کرنے والے افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے‘ کا مطالبہ بھی قرارداد کے متن میں شامل ہے۔

امریکا، فرانس اور برطانیہ کی حمایت یافتہ اس قرارداد کے مسودے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مسعود اظہر جیش محمد کو ہتھیاروں کی فراہمی، ان کے لیے پیسے جمع کرنے، گروپ کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کرنے میں ملوث ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ سلامتی کونسل کی متعلقہ ذیلی کمیٹی میں مسعود اظہر کو بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کی گزشتہ کوشش کو چین نے ناکام بنا دیا تھا۔ جیش محمد تنظیم پہلے ہی سے اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہے۔

اس قرارداد کی منظوری کے لیے، اگر اسے ویٹو نہ کر دیا گیا تو، پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے کم از کم نو ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔ فی الحال رائے شماری کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

ش ح / ع ح (اے پی، ڈی پی اے)

DW.COM