امریکا سے پیٹریاٹ میزائل خریدیں گے، ایردوآن | حالات حاضرہ | DW | 14.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا سے پیٹریاٹ میزائل خریدیں گے، ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ وہ ترکی کے لیے امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کے حصول کے لیے صدر ٹرمپ سے گفتگو کریں گے۔

ترک صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے قریبی اور ذاتی نوعیت کا تعلق روسی میزائل خریدنے کے باعث پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں ترک صدر نے روسی ہتھیار خریدنے کے بعد سے امریکا اور ترکی کے مابین تناؤ کم کرنے کا عندیہ بھی دیا اور امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کی خریداری میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

قطر اور ترکی کا سعودی ولی عہد کے خلاف ’اعلان جنگ‘؟

صدر ایردوآن کا کہنا تھا کہ انہوں نے قریب دو ہفتے قبل صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ ترک صدر کا کہنا تھا، ''میں نے کہا ایس 400 کا جو بھی پیکیج ہم خریدیں، اس سے قطع نظر ہم آپ سے خاص تعداد میں پیٹریاٹ میزائل خرید سکتے ہیں۔ لیکن میں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ یہ میزائل کم از کم ایس چار سو سے مطابقت رکھتے ہوں۔ انہوں (ٹرمپ) نے کہا، کیا آپ سنجیدہ ہیں، میں نے کہا جی ہاں۔‘‘

ایردوآن کے مطابق اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر باہمی ملاقات میں تفصیل سے گفتگو کی جائے گی اور اس کے ساتھ مشترکہ پروڈکشن کے امکان اور فراہمی کی شرائط پر تبادہ خیال بھی کیا جائے گا۔

ترکی میزائل نظام کے بعد اب جدید طیارے بھی روس سے خریدے گا؟

روسی ایس چار سو دفاعی میزائل نظام خریدنے کے بعد امریکا نے ترکی کو جنگی طیاروں اور میزائلوں کی فروخت روک دی تھی۔ روئٹرز نے صدر ایردوآن سے پوچھا کہ کیا انہوں نے ایران پر عائد امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر ترک سرکاری بینک پر بھاری جرمانہ عائد کیے جانے کی خبروں پر بھی صدر ٹرمپ سے بات کی تو اس کے جواب میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ 'مختلف طرح کا اعتماد‘ ہونے کے باعث انہیں پورا یقین ہے کہ امریکا ایسی 'غلطی‘ نہیں کرے گا۔

ترک صدر نے کہا، ''میرے خیال میں امریکا جیسا ملک اپنے اتحادی ملک ترکی کو مزید نقصان نہیں پہنچانے چاہے گا کیوں کہ یہ عقلی رویہ نہیں ہے۔‘‘

صدر ایردوآن کے مطابق ترک سرحد کے قریبی شامی علاقوں میں سیف زون کے قیام کے منصوبے پر بھی امریکی ہم منصب سے بات چیت جاری ہے۔

ش ح / ا ا (روئٹرز)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات