امریکا سعودی عرب میں پیٹریاٹ میزائل نصب کرے گا | حالات حاضرہ | DW | 27.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا سعودی عرب میں پیٹریاٹ میزائل نصب کرے گا

خلیج فارس میں پائی جانے والی کشیدگی کے تناظر میں امریکا سعودی سرزمین پر پیٹریاٹ میزائل اور جدید راڈار نظام نصب کرے گا۔ اس امریکی فیصلے سے خلیجی علاقے میں امریکی فوجی قوت میں مزید اضافہ ہو گا۔

امریکی محکمہٴ دفاع پینٹاگون کے مطابق سعودی عرب میں مجموعی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کے اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جدید امریکی دفاعی میزائل نظام پیٹریاٹ کے ساتھ ساتھ زمین پر انتہائی جدید راڈار نظام سینٹینل کوبھی نصب کیا جائے گا۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کے مطابق اس تنصیبات سے سعودی عرب کے فضائی اور میزائل نظام کو تقویت حاصل ہو گی۔ ایسپر کے مطابق یہ تنصیبات سعودی عرب کے فوجی اور شہری دفاعی ڈھانچے کے لیے بہت ضروری ہو گئی ہیں۔ ایسپر کے بقول اس فیصلے سے خطے میں امریکی موجودگی کو بھی قوت حاصل ہو گی۔

دفاعی میزائل نظام پیٹریاٹ کے ہمراہ دو سوامریکی فوجی بھی تعینات کیے جائیں گے۔ پینٹاگون کے مطابق سعودی عرب نے پہلے ہی دو پیٹریاٹ میزائل اور ایک ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ڈیفنس سسٹم (THAAD) کی خریداری کے سودے کر رکھے ہیں۔ ان سودوں کی فراہمی ابھی باقی ہے۔

Türkei US Soldaten Patriot Flugabwehrsystem (Getty Images/AFP/B. Kilic)

جدید امریکی میزائل سسٹم پیٹریاٹ ترکی میں بھی نصب کیا گیا تھا

یہ امر اہم ہے کہ امریکا کے ہزاروں فوجی خلیج کے علاقے میں مختلف مقامات پر متعین ہیں۔ جن ملکوں میں یہ امریکی فوجی موجود ہیں، ان میں سعودی عرب، بحرین اور قطر شامل ہیں۔ دوسری جانب خلیج میں امریکی قیادت میں جاری عسکری سرگرمیوں میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ بھی شامل ہو چکے ہیں۔

امریکی عسکری سرگرمیوں میں تیزی چودہ ستمبر سے پیدا ہے جب سعودی عرب کی تیل کی بڑی تنصیبات پر مبینہ ایرانی حملہ کیا گیا تھا۔ ایران اس الزام کی تردید کرتا ہے۔ ان حملوں سے سعودی تیل کی پیداوار میں واضح خلل پیدا ہوا اور اس کا اثر عالمی سطح پر محسوس کیا گیا۔ سعودی حکومت ایسی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے کہ تیل کی سپلائی کو اسی ماہ کے اختتام تک بحال کر دیا جائے۔

چیز ونٹر (عابد حسین)

DW.COM