امریکا بھی ′جمہوری انحطاط′ والے ملکوں میں شامل | حالات حاضرہ | DW | 23.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا بھی 'جمہوری انحطاط' والے ملکوں میں شامل

ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا جیسی مستحکم جمہوریت اور بعض یورپی ممالک میں شہری آزادیوں میں انحطاط آرہا ہے۔ چین میں مطلق العنانی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان بھارت اور برازیل میں پہنچا ہے۔

سویڈن کے تھنک ٹینک 'انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس(انٹرنیشنل آئیڈیا)' نے دنیا میں جمہوریتوں کی صورت حال کے حوالے سے پیر کے روز اپنی تازہ ترین رپورٹ شائع کی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشہ دہائی کے دوران دنیا کی متعدد جمہوریتوں میں انحطاط پذیری کی رفتار دوگنا ہوگئی ہے۔ اور اب یہ صورت حال دنیا کے ایک چوتھائی ملکوں میں پائی جاتی ہے۔ان میں امریکا جیسی مستحکم جمہوریت اور ہنگری، پولینڈ اور سلووینیا جیسے یورپی یونین کے ممالک بھی شامل ہیں۔

انٹرنیشنل آئیڈیا کی اس سالانہ رپورٹ کے مطابق امریکا اور کئی یورپی ممالک میں شہری آزادیوں اور دیگر آزادیوں کو مسلسل انحطاط کا سامنا ہے جبکہ آمرانہ حکومتیں "  پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ جابرانہ رویے اختیار کررہی ہیں۔"

امریکا جمہوری انحطاط کی فہرست میں پہلی مرتبہ

سویڈن کے اس عالمی ادارے کی جانب سے یہ رپورٹ ایک ایسے موقع پر جاری کی گئی ہے جب امریکی صدر جو بائیڈن جمہوریت کے حوالے سے اگلے ماہ ایک ورچوئل عالمی اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ دسمبر کے دوسرے ہفتے میں ہونے والے اس اجلاس میں دنیا بھر سے 100 ممالک کے رہنما شرکت کریں گے اور جمہوریت کو درپیش چیلنجز کے موضوع پر بات کریں گے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق رپورٹ کے شریک مصنف الیگزینڈر ہڈسن کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ  امریکا میں جمہوری اقدار میں تنزلی دیکھی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحقیق اور اعداد و شمار کے مطابق، جمہوری اقدار کو نقصان پہنچنے کا عمل 2019ء میں شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ایک بہترین کارکردگی والی جمہوریت ہے اور اس کے اشاریے بھی بہتر ہوئے ہیں اور 2020ء میں حکومت بھی غیر جانبدار رہی تاہم، شہری آزادیوں پر قدغنیں اور حکومتی اداروں پر نظر رکھنے جیسے ضوابط دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کے بنیادی عوامل میں کہیں نہ کہیں کوئی سنگین مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخی لحاظ سے اہم موڑ سن 2020-21میں اُس وقت آیا جب سابق صدر ٹرمپ نے 2020ء کے انتخابی نتائج کے جائز ہونے پر سوالا ت اٹھا دیے۔

انٹرنیشنل آئیڈیاز کے سیکرٹری جنرل کیون کاساس زمورا کا کہنا ہے کہ انتخابات کو متنازعہ بنایا جانا ایک تشویشناک بات ہے۔ امریکا میں جمہوریت میں خرابی پیدا ہونا، انتخابات میں شمولیت کے عمل کو دبانا اور پولرائزیشن ایسے معاملات ہیں جن پر تشویش ہوتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دھاندلی کے شواہد نہ ہونے کے باوجود حالات کا پرتشدد ہو جانا ایسا واقعہ ہے جو متعدد مرتبہ مختلف طریقوں سے ہو رہا ہے اور یہ سب میانمار، پیرو اور اسرائیل میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار جمہوریت سے ہٹ کر مطلق العنان حکومت بن چکا ہے جبکہ افغانستان اور مالی ہائبرڈ حکومت کی کیٹگری سے نکل کر اسی کیٹگری میں شامل ہو چکے ہیں۔

پاکستان کا ذکر نہیں

اس مرتبہ رپورٹ میں پاکستان کو توجہ کا مرکز نہیں بنایا گیا کیونکہ دیگر ملکوں پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے۔ تاہم، پاکستان کو 2008ء سے ہی ایک کمزور جمہوریت قرار دیا گیا ہے۔

گروپ کے عبوری جائزے کے مطابق، دنیا میں 98 ممالک میں جمہوریت ہے اور یہ تعداد گزشتہ کئی برسوں کے بعد اپنی کم ترین سطح پر ہے۔ روس، مراکش اور ترکی سمیت 20 ممالک میں ہائبرڈ جمہوریت ہے جبکہ چین، سعودی عرب، ایتھوپیا اور ایران سمیت 47 ممالک میں آمرانہ حکومت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے،" درحقیقت عالمی آبادی کی 70فیصد اس وقت غیر جمہوری حکومتوں یا جمہوری انحطاط پذیر ملکوں میں رہتی ہے۔"

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض ملکوں میں حکومتوں نے کورونا وائرس کی وبا کو اپنے مخالفین کو دبانے اور انہیں خاموش کرانے کے لیے حربے کے طور پر استعمال کیا۔ان میں بیلاروس، کیوبا، میانمار، نکاراگوا اور وینزویلا خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دنیا میں جمہوریت کو سب سے بڑا نقصان بھارت اور برازیل میں دیکھا گیا۔ان ملکوں نے بالخصوص ایسے اقدامات کیے جنہیں جمہوریت کے خلاف کہا جاسکتا ہے۔ یہ ایسے اقدامات تھے جو نامناسب اور غیر قانونی تھے اور انہیں کسی بھی لحاظ سے ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ یہ ہنگامی صورت حال کی وجہ سے کیے گئے۔

 ج ا/      (اے ایف پی، اے پی، روئٹرز)

ویڈیو دیکھیے 05:11

روحانیت اور جمہوریت: عمران خان کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم ’اسپریچوئل ڈیموکریسی‘

DW.COM