’امریکا ایک نئی جنگ برداشت نہیں کر سکتا‘ | حالات حاضرہ | DW | 17.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’امریکا ایک نئی جنگ برداشت نہیں کر سکتا‘

ایران نے کہا ہے کہ وہ خلیج میں امریکی جنگی جہازوں کو آسانی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایرانی حکام کے حوالے سے جمعے کے دن بتایا ہے کہ ایرانی فوج خلیج میں تعینات امریکی جنگی جہازوں کو ’آسانی کے ساتھ‘ نشانہ بنا سکتی ہے۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد طریف عالمی جوہری ڈیل کی بچانے کی خاطر اپنے ایشیائی ممالک کا دورہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی یہ کوشش بھی ہے کہ امریکا کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو سفارتی کوششوں سے ختم کرایا جا سکے۔

حالیہ کچھ دنوں سے ایران اور امریکا کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز پر ہی خلیج میں چار آئل ٹینکروں پر ہوئے حملوں کے بعد امریکا نے بغداد میں تعینات اپنے سفارتی عملے کے کچھ اہلکاروں کو واپس بلوا لیا تھا۔ کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکا اور ایران کے مابین پائے جانے والے تناؤ میں واضح اضافہ ہوا ہے اور یہ صورتحال کسی مسلح تنازعے کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔

اس کشیدگی میں ایرانی انقلابی گارڈز سے متعلق پارلیمانی امور کے نائب محمد صالح جوکار نے کہا ہے کہ کم فاصلے تک مار کرنے والے ایرانی میزائل خلیج فارس میں امریکی جنگی جہازوں کو باآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایک نئی جنگ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ واضح رہے کہ ایران پر عائد پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کیا ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن حکومت  نے کہا ہے کہ ایران پر عائد کردہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزیوں کو سنجیدہ لیا جائے گا اور ایسی کسی بھی پیش رفت کا موثر جواب دیا جائے گا، جو ان کی خلاف ورزیوں کا موجب ہوں گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی گئی، جس میں ایک چینی بندرگاہ پر ایرانی آئل ٹینکر کی موجودگی سے متعلق کہا گیا تھا۔ اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے کہا تھا کہ ایک تیل بردار جہاز ایک لاکھ تیس ہزار ٹن ایرانی تیل لے کر چینی شہر زاؤشان پہنچا تھا۔ محکمہء خارجہ کے ترجمان نے تاہم اس مخصوص واقعے کے تناظر میں امریکی اقدامات پر تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے ایشیائی دورے کی اگلی منزل چین پہنچ گئے ہیں۔ وہ بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں پیدا کشیدگی اور تناؤ پر گفتگو کریں گے۔ چین روانگی سے قبل جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں جواد ظریف نے کہا کہ ابھی تک جوہری ڈیل کو بچانے کے لیے بین الاقوامی برادری نے صرف بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے  یہ بھی کہا کہ اب اس ڈیل کو بچانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہو گئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ چین پہنچنے سے قبل جاپان اور بھارت کے دورے کر چکے ہیں۔

ع ت / ع ب / خبر رساں ادارے

DW.COM