امریکا اور یورپ کو مقامی جہادیوں کے خطرے کا سامنا ہے | معاشرہ | DW | 17.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکا اور یورپ کو مقامی جہادیوں کے خطرے کا سامنا ہے

دہشت گردی کے ایک امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ یورپ اور امریکا کو مقامی طور پر پیدا ہونے والی مسلم شدت پسندی کا سامنا ہے۔ ماہر کے مطابق اس باعث مقامی بنیاد پرست افراد شدید خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ایجنٹ اور دہشت گردی کے ماہر مارک زاگمین کا خیال ہے کہ امریکا اور یورپ کے اندر پیدا ہونے والی مسلم انتہاپسندی سے متاثر ہونے والے جہادی بظاہر کوئی میدان جنگ کا تجربہ نہیں رکھتے لیکن اُس کے باوجود وہ بہت خطرناک ہیں۔ اس تناظر میں زاگمین کا خیال ہے کہ یہ بنیاد پرست جہادی اس خطے کے لیے ایک بنیادی اور شدید ممکنہ خطرہ ہیں۔

واپس لوٹنے والے جہادیوں سے خطرات بڑھتے ہوئے

داعش کی صفوں سے یورپ لوٹنے والے جہادی ’ٹائم بم‘ تو نہیں؟

آسٹریا میں ایک درجن سے زائد مشتبہ ’جہادیوں‘ کی گرفتاری

پولینڈ میں پناہ نہ دینے کی وجہ ’جہادیوں کا خوف‘ ہے

اسی طرح چند دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ شام اور عراق میں شکست سے دوچار دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ میں شامل یورپی و امریکی جہادیوں کی واپسی کا عمل شروع ہے اور یہ شکست خوردہ جہادی اس خطے کی سلامتی اور امن و سکون کے لیے بہت بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان جہادیوں سے بڑا خطرہ وہ افراد ہیں جو مسلم شدت پسندی کے زیر اثر اپنی سوچ کو تبدیل کر چکے ہیں۔

مارک زاگمین کا کہنا ہے کہ نومبر سن 2015 کے پیرس حملوں کے بعد اب ایسا نہیں دکھائی دیتا کہ فرانس یا امریکا میں انتہائی بڑے دہشت گردانہ حملے ممکن ہیں کیونکہ اب سکیورٹی کی صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ پیرس حملوں میں 130 افراد مارے گئے تھے۔

Muslime vor Moschee in Paris (picture-alliance/Godong/Robert Harding)

یورپ یا امریکا میں شدت پسندی کی ایک وجہ انٹرنیٹ پر دستیاب جہادی مواد بھی ہے

زاگمین کے بقول اب یورپ یا امریکا میں جو بھی حملہ آور بننے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ کی جانب سے ہدایات نہیں ملتی ہیں اور یہ زیادہ تر مقامی مسلم شدت پسندی کی پیداوار ہیں۔ اس حوالے سے بنگلہ دیشی عقائد اللہ یا ازبک سیف اللہ سائپوف جیسے حملہ آوروں کا اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں رہا تھا لیکن وہ جہادی پراپیگنڈے اور انٹرنیٹ پر دستیاب مواد سے بنیاد پرستی کی جانب راغب ہوئے۔

ویڈیو دیکھیے 02:07
Now live
02:07 منٹ

بیلجیم کا علاقہ مولن بَیک، یورپی جہادیوں کا مرکز؟

نیو امریکا نامی تھنک ٹینک کے ریسرچر البرٹ فورڈ کا کہنا ہے کہ شام و عراق سے لوٹنے والے جہادی کوئی بڑی تشویش کا باعث نہیں ہیں لیکن امریکا میں حملے ایسے افراد نے کیے ہیں جو کئی برسوں سے امریکا ہی میں مقیم تھے اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھے۔

فورڈ کے مطابق سمتبر گیارہ کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کُل 415 افراد کو اسلامی انتہا پسندی سے منسلک جرائم کا سامنا ہے۔ ان میں سے پچاسی فیصد امریکی شہری ہیں جبکہ ایسے ملزموں کی نصف تعداد امریکا ہی میں پیدا ہوئی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 02:36
Now live
02:36 منٹ

فٹ بال کے ساتھ ساتھ شدت پسندی کو بھی کک

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار