امریکا اور روس کے مابین اہم امور پر مذاکرات دس جنوری کو ہوں گے | حالات حاضرہ | DW | 28.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

امریکا اور روس کے مابین اہم امور پر مذاکرات دس جنوری کو ہوں گے

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق واشنگٹن اور ماسکو جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول اور یوکرائن پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اس کے بعد ہی نیٹو اور روس کے درمیان بھی اہم امور پر مذاکرات کی توقع ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ امریکا اور روس جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول اور یوکرائن کی سرحد کے پاس فوج کی تعیناتی سے پیدا ہونے والی کشیدگی جیسے امور پر 10 جنوری کو بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ایک ترجمان نے میڈیا سے بات چیت میں کہا، "امریکا روس کے ساتھ بات چیت کے لیے منتظر ہے۔" ترجمان کا مزید کہنا تھا، "جب ہم بات کرنے بیٹھیں گے تو روس اپنے تحفظات میز پر رکھ سکتا ہے اور ہم روس کی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنی تشویش بیان کر سکتے ہیں۔"

دس جنوری کو ہونے والی دو طرفہ ملاقات اس 'اسٹریٹیجک سکیورٹی ڈائیلاگ' کے تحت ہو گی، جس کا آغاز امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن نے گزشتہ برس جون میں جنیوا میں ہونے والے اپنے سربراہی اجلاس میں کیا تھا۔

یوکرائن پر نیٹو اور ماسکو کے درمیان بھی مذاکرات کا منصوبہ

اطلاعات کے مطابق امریکی بات جیت کے دو روز بعد یعنی 12 جنوری کو روس اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے مابین بھی مذاکرات کی تیاری ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپ کی سلامتی اور تعاون  تنظیم (او ایس سی ای)  کا ایک وسیع تر اجلاس 13 جنوری کو ہونا طے ہے۔

مغربی ممالک نے روسی صدر ولادمیر پوٹین پر یوکرائن پر حملہ کرنے کی دھمکی دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ ادھر حالیہ دنوں میں روس نے یوکرائن کے ساتھ اپنی سرحد پر کئی ہزار نئے فوجی تعینات کیے ہیں۔ اس سے یوکرائن اور اس کے مغربی اتحادیوں کے درمیان جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا اور انہیں اندیشہ ہے کہ اس طرح روس یوکرائن کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لے گا۔

حالانکہ صدر پوٹن نے اپنے پڑوسی ملک پر ایسے کسی بھی حملے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی فوج کی نقل و حرکت مغربی افواج کے خلاف روس کا دفاع کرنے کے لیے ہے۔

اطلاعات کے مطابق نیٹو اور روسی کونسل کے درمیان اور ’او ایس سی ای‘  کی بات چیت میں یوکرائن کا معاملہ ہی توجہ کا مرکز ہو گا۔

اتوار کے روز ہی روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا تھا کہ اگر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو سلامتی کی مطلوبہ ضمانتیں نہیں فراہم کرتا، تو وہ فوجی ماہرین کی جانب سے دیے گئے کئی متنوع امکانات پر غور کریں گے۔ صدر پوٹن کا کہنا تھا کہ نیٹو کا مشرق کی سمت پھیلاؤ روس کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

ماسکو کا کہنا ہے کہ نیٹو روس کو اس بات کی ضمانت دے کہ وہ یوکرائن کو اپنا رکن نہیں بنائے گا اور اس ضمانت پر عمل درآمد نیٹو کے لیے لازمی بھی ہونا چاہیے۔ تاہم نیٹو اتحاد اس سے قبل ایسی ضمانتوں کے مطالبات مسترد کر چکا ہے۔

ص ز/ ع ا (اے ایف پی، روئٹرز)

DW.COM